data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)شہر قائد میں 50سال سے زائد عرصے سے اخبارات ،رسائل اور جرائد کی فروخت کے شعبے سے وابستہ صدر ریگل چوک پر واقع انوربک اسٹال کے مالک محمد انور نے فرانس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے اخباری ہاکر علی اکبر کو فرانس کا اعلیٰ سول اعزاز ملنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلاشبہ ایک اخباری ہاکر کو اتنے بڑے اعزاز سے نوازنے پر فرانس کے صدر بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں محمد انور نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اخبارات کی فروخت کے اہم ترین شعبہ سے وابستہ افراد کی کوئی حوصلہ افزائی یا پزیرائی نہیں کی جاتی اور نہ ہی سرکاری سطح پر اخبارات کے اسٹالز کو کوئی سہولیات یا تحفظ فراہم کیا جارہا ہے حکومت کی عدم سرپرستی کے باعث پاکستان بالخصوص کراچی میں اخبار فروشی کی صنعت رفتہ رفتہ دم توڑ رہی ہے اس موقع پر محمد انور نے کمشنر کراچی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ریگل چوک پر کے ایم سی کی جانب سے الاٹ کردہ اخباری اسٹالز کے ہوشربا کرایوں میں کمی کیلئے ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے ہمیں قومی امید ہے کمشنر صاحب ہمارا یہ مسئلہ ضرور حل کرائیں گے محمد انور نے کہا کہ حکومت سے ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ کراچی میں اخبارات کے اسٹالز کو تحفظ فراہم کیا جائے ،اخباری اسٹالز پوری دنیا میں تجاوزات میں شامل نہیں کئے جاتے کراچی میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے بلکہ کراچی کی مخصوص جگہوں پر سندھ حکومت کو خود اسٹالز بنا کر دینے چاہئیں تاکہ یہ شعبہ برقرار رہ سکے محمد انور کا کہنا تھاکہ ملک میں سرکاری سطح پر اخبارات کی فروخت سے منسلک افراد کے لیئے سندھ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ سے بھی درخواست ھے کہ وہ جس طرح دوسرے شعبوں کے لوگوں کو مراعات اور مالی امداد دیتے ہیں اسی طرح اخبار فروشوں کی بھی سر پرستی فرمائیں کیونکہ اس شعبے سے وابستہ افراد بھی اخبارات کی فروخت کم ہونے سے مشکلات کا شکار ہیں محمد انور نے کہا کہ اخباری ہاکرز کو بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتی سطح پر ایوارڈز یآ اعزاز دینے کا سلسلہ شروع کیا جانا چاہیے جب ایک پاکستانی اخبار فروش کو فرانس میں اعلیٰ سول اعزاز دیا جا سکتا ہے تو پاکستان میں حکومت اپنے اخبار فروشوں کو ایوارڈ کیوں نہیں دی سکتی –

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی فروخت کہا کہ

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان