اے ڈی سی ٹو اقراجنت کی زیر صدارت ممتا پروگرام کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مٹیاری (نمائندہ جسارت)ڈپٹی کمشنر مٹیاری محمد یوسف شیخ کی ہدایات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو مٹیاری اقراء جنت کی صدارت میں لطیف ہال مٹیاری میں اجلاس منعقد ہوئے، جن میں غذائی قلت، ممتا پروگرام، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی حقوق سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران اے ڈی سی ٹو اقراء جنت نے کہا کہ ضلع میں جاری غذائی قلت اور ممتا پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہ مستحق خواتین اور بچوں تک سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ رجسٹریشن اور آگاہی مہم کو تیز کیا جائے اور امدادی رقم شفاف طریقے سے بغیر کسی کٹوتی کے حقداروں تک پہنچائی جائے۔ اجلاس میں محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ممتا پروگرام کے تحت حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانا اور غذائی قلت پر قابو پانا ہے۔اے ڈی سی ٹو اقراء جنت نے محکمہ بہبودِ آبادی کو بھی ہدایت کی کہ ضلع میں آبادی سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ عوام میں آبادی پر کنٹرول اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے شعور بیدار ہو اور متوازن آبادی کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔مزید برآں، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی حقوق سے متعلق اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران، سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مذہبی آزادی، بھائی چارے اور امن کے فروغ پر زور دیا گیا۔اجلاس کے دوران بچوں سے جبری مشقت، بھیک مانگنے، کم عمری اور جبری شادیوں، اور زبردستی مذہب تبدیل کروانے جیسے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ اے ڈی سی ٹو اقراء جنت نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ممتا پروگرام اے ڈی سی ٹو اقراء جنت
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :