بدین، طلبہ کو صلاحیتوں کے اظہار کیلیے بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ، یاسر بھٹی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدین (جسارت نیوز ) ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی نے گورنمنٹ ہائی اسکول ڈاکٹر عبدالجبار جونیجو میں منعقدہ ضلعی سطح کے اسٹیم (STEAM) مقابلے کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں ضلع کے مختلف سرکاری اسکولوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلبہ و طالبات نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور ریاضی پر مبنی اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ جدید اور تخلیقی منصوبے پیش کیے ڈپٹی کمشنر نے مقابلے میں قائم ہر اسٹال کا دورہ کیا اور طلبہ کے ماڈلز اور منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی تخلیقی صلاحیتوں، فنی مہارت اور جدت کو سراہا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم بدین کی جانب سے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے، جہاں وہ اپنے خیالات کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی بہتری سمیت مختلف سماجی اور سائنسی شعبوں سے متعلق تیار کردہ ماڈلز اس بات کا ثبوت ہیں کہ نوجوان نسل جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔یاسر بھٹی نے کہا کہ طلبہ کی کامیابی کے پیچھے ان کے اساتذہ کی محنت اور رہنمائی نمایاں طور پر نظر آتی ہے، لہٰذا طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی کاوشوں کو بھی سراہنا ضروری ہے، جو اپنے شاگردوں کے روشن مستقبل کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری انور پارابی، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر سرفراز سموں، اسسٹنٹ کمشنر بدین راجیش دلپت اور دیگر افسران نے بھی مقابلے کا معائنہ کیا اور ایسے سائنسی و تعلیمی پروگراموں کو نوجوان نسل کی ذہنی اور تخلیقی تربیت کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ افسران کا کہنا تھا کہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسٹیم جیسے مقابلے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، اور حکومت ایسے اقدامات کی مکمل سرپرستی جاری رکھے گی تاکہ طلبہ کو بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے لیے تیار کیا جا سکے ایجوکیشن فوکل پرسن محمد خان سموں نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع بدین کے تمام سرکاری اسکولوں میں پہلے مرحلے کے طور پر اسٹیم مقابلے منعقد کیے گئے، جبکہ ضلعی سطح کے اس مقابلے میں اسکول سطح پر کامیاب ہونے والے طلبہ نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں، صرف انہیں حوصلہ افزائی اور مناسب مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مقابلے کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اسکولوں، کالجوں اور لاڑ سندھ یونیورسٹی کیمپس سے اہل ججز مقرر کیے گئے تھے مقابلے کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن پر انعامات اور اسناد سے نوازا گیا۔ طلبہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلوں سے نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ ملتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔