جیکب آباد پولیس رپورٹنگ روم رہائش گاہ میں تبدیل،شکایتی نظام مفلوج
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (جسارت نیوز) جیکب آباد میں پولیس رپورٹنگ روم رہائش گاہ میں تبدیل،برسوں سے غیر فعال،عوامی شکایات کا نظام مفلوج،شکایت درج کرانے کے لیے بنائے گئے کمرے اب آرام گاہیں بن گئے، انصاف کا دروازہ بند!، سول لائن ،صدر ،ائیرپورٹ تھانہ سمیت دیگر تھانوں کی رپورٹنگ روم بند ،مقرر عملہ گم ،آئی ٹی انچارج رپورٹنگ روم کو فعال کرنے میں ناکام تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں عوامی شکایات کے فوری اندراج اور ازالے کے لیے قائم کیے گئے پولیس رپورٹنگ رومز برسوں سے غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض تھانیداروں نے ان رپورٹنگ رومز کو مبینہ طور پر رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیا ہے، جبکہ مقرر کردہ عملہ بھی ڈیوٹی سے غائب ہے۔سول لائن ،صدر ،ائیرپورٹ اور دیگر تھانوں پررپورٹنگ رومز کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا کہ شہریوں کو ایف آئی آر کے اندراج،شناختی کارڈ ،ضروری کاغذات اور گاڑیوں کی گمشدگی سمیت دیگر درخواست وصولی اور ابتدائی رہنمائی کے لیے تھانے کے اندر ایک الگ اور باقاعدہ سہولت فراہم کی جائے تاکہ سائلین کو محرومی، تاخیر یا غیر ضروری دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ کمرے یا تو تالے میں بند ہیں یا ذاتی استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ تھانوں میں رپورٹ درج کرانے کے لیے انہیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، بعض اوقات متعلقہ افسران دستیاب نہیں ہوتے، جبکہ رپورٹنگ روم کی عدم فعالیت کے باعث شفاف اور منظم نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ سائلین نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ٹی انچارج اور متعلقہ افسران رپورٹنگ روم کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک اور فعال کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث آن لائن شکایات اور ڈیٹا انٹری کا نظام بھی متاثر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رپورٹنگ روم کے لیے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔