data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جیکب آباد (جسارت نیوز) جیکب آباد میں پولیس رپورٹنگ روم رہائش گاہ میں تبدیل،برسوں سے غیر فعال،عوامی شکایات کا نظام مفلوج،شکایت درج کرانے کے لیے بنائے گئے کمرے اب آرام گاہیں بن گئے، انصاف کا دروازہ بند!، سول لائن ،صدر ،ائیرپورٹ تھانہ سمیت دیگر تھانوں کی رپورٹنگ روم بند ،مقرر عملہ گم ،آئی ٹی انچارج رپورٹنگ روم کو فعال کرنے میں ناکام تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں عوامی شکایات کے فوری اندراج اور ازالے کے لیے قائم کیے گئے پولیس رپورٹنگ رومز برسوں سے غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض تھانیداروں نے ان رپورٹنگ رومز کو مبینہ طور پر رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیا ہے، جبکہ مقرر کردہ عملہ بھی ڈیوٹی سے غائب ہے۔سول لائن ،صدر ،ائیرپورٹ اور دیگر تھانوں پررپورٹنگ رومز کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا کہ شہریوں کو ایف آئی آر کے اندراج،شناختی کارڈ ،ضروری کاغذات اور گاڑیوں کی گمشدگی سمیت دیگر درخواست وصولی اور ابتدائی رہنمائی کے لیے تھانے کے اندر ایک الگ اور باقاعدہ سہولت فراہم کی جائے تاکہ سائلین کو محرومی، تاخیر یا غیر ضروری دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ کمرے یا تو تالے میں بند ہیں یا ذاتی استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ تھانوں میں رپورٹ درج کرانے کے لیے انہیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، بعض اوقات متعلقہ افسران دستیاب نہیں ہوتے، جبکہ رپورٹنگ روم کی عدم فعالیت کے باعث شفاف اور منظم نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ سائلین نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ٹی انچارج اور متعلقہ افسران رپورٹنگ روم کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک اور فعال کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث آن لائن شکایات اور ڈیٹا انٹری کا نظام بھی متاثر ہے۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رپورٹنگ روم کے لیے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے