حکومت ویلیو ایڈیشن کی سہولتوں کے لیے معاونت کرے ‘ خادم حسین
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کامرس ڈیسک) فائونڈر ز گروپ کے سرگرم رکن ،پاکستان اسٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران غیر ملکی زرِ مبادلہ کے حصول کے ذریعے کے طور پر پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے جو تشویش کاباعث ہے،پاکستان کی برآمدات زیادہ تر خام مال پر مشتمل ہیں جن میں ویلیو ایڈیشن بہت کم ہے اس لیے حکومت ویلیو ایڈیشن کے لیے درکار سہولتوں کے لیے مکمل معاونت اور سرپرستی کرے۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ ترسیلات زر کی آمدن کی گروتھ پر خوش ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ برآمدات پر توجہ دیتے ہوئے مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کی طرف بڑھنا چاہیے ،برآمدات فروغ پائیں تو ملک میں صنعتیں چلیں گی ، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور محصولات اکٹھے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے حالیہ دنو ں میں ایکسپورٹرز کے لیے کچھ ریلیف کے اعلانات تو کئے ہیں لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا حکومت نے اس ریلیف پیکیج کی تفصیلات آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی ہیں یا نہیں لیکن اگر ایسا کیا بھی گیا ہے تو اس پیکیج کا تسلسل نہ صرف ایندھن کی بین الاقوامی قیمتوں پر منحصر ہوگا جو بجلی کے شعبے کے لیے ایک کلیدی جزو ہے بلکہ اس کا دارومدار بجلی کے شعبے کی مجموعی کارکردگی پر بھی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صنعتی بنیاد پر نظر ثانی کرنے اور ٹیکنالوجی بشمول مصنوعی ذہانت کی تیاری میں زیادہ ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویلیو ایڈیشن برا مدات کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔