ڈاائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کی موجودگی میں کورنگی میں تعمیراتی لاقانونیت
اللہ والا ٹاؤن کے ڈی اے ایمپلائز سوسائٹی کے رہائشی پلاٹ R178پر کمرشل عمارت

کورنگی میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف جنگ ایک ایسی المیہ کہانی بن چکی ہے جہاں محافظ ہی حملہ آور نظر آتے ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی جن کا بنیادی فرض غیرقانونی تعمیرات کو روکنا ہے، ان ہی کی سربراہی میں یہ محکمہ اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بن کر رہ گیا ہے ۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی کے عہدے سنبھالنے اور انسپکٹر کاشف علی کی ذمہ داریوں میں توسیع کے بعد سے ہی علاقے میں غیرقانونی تعمیرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔”یہ ایک کھلا راز ہے ،” علاقے کے ایک کارکن عبدالرحمان کہتے ہیں۔ "جب ہم انسپکٹر کاشف علی کے پاس غیرقانونی تعمیرات کی شکایت لے کر جاتے ہیں، تو وہ یا تو ٹال مٹول کرتے ہیں یا پھر کہتے ہیں کہ ‘اوپر سے ہدایات’ ہیں۔ ڈائریکٹر سمیع جلبانی صاحب تک ہماری آواز پہنچتی ہی نہیں۔ وہ تو سرے سے ہمارے علاقے میں آتے ہی نہیں دکھائی دیتے ۔”حقیقت یہ ہے کہ کاشف علی کی نگرانی میں اللہ والا ٹاؤن میں سب سے زیادہ غیرقانونی تعمیرات ہوئی ہیںسمیع جلبانی کی ڈائریکٹریٹ میں ان خلاف ورزیوں پر کوئی کارروائی کے ریکارڈ نہیں ہیںمحکمے کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹسز محض کاغذی کارروائی ثابت ہوئے ہیںایک محکمہ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ دونوں حضرات جلبانی صاحب اور کاشف صاحب ایک دوسرے کے لیے ‘سیفٹی نیٹ’ کا کام کر رہے ہیں۔ کاشف فیلڈ لیول پر کام کرتے ہیں، اور جلبانی صاحب انہیں اوپری سطح پر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس نے پورے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ "سوال یہ اٹھ رہے ہیں:1کیا سمیع جلبانی اپنی انتظامی ذمہ داریوں سے لاپرواہ ہیں؟2کیا کاشف علی غیرقانونی تعمیرات میں ملوث ہیں یا مجرمانہ غفلت کا شکار ہیں؟ 3کیا یہ دونوں افسران اپنے فرائض کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کر رہے ہیں؟سول سوسائٹی کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری سے براہ راست مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اندر موجود اس بدعنوانی کے عفریت کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے ، کیونکہ جلبانی اور کاشف جیسے افسران کی موجودگی میں ہی غیرقانونی تعمیرات پروان چڑھ رہی ہیں۔زمینی حقائق کے مطابق اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31B ،KDA ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی پلاٹ R178 پر ضابطوں کے بر خلاف بلند ہوتی عمارت پرعلاقہ مکینوں کا پیغام واضح ہے : "یا تو ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی اپنا فرض ادا کریں، یا پھر انہیں ان عہدوں سے ہٹا دیا جائے ۔ ہماری زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ڈائریکٹر سمیع جلبانی غیرقانونی تعمیرات انسپکٹر کاشف علی جلبانی اور

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن