سندھ اسمبلی میں شراب پر پابندی کی قرارداد مسترد کرناشرمناک ہے‘کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-08-27
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ شراب پرمکمل پابندی بل کا 2018 ء میں قومی اسمبلی اور اب سندھ اسمبلی میں مسترد ہونا قابل شرم بات ہے۔اُم الخبائث کے حوالے سے اللہ اور رسولؐ کے احکامات قرآن و سنت کی صورت میں واضح اور دوٹوک موجود ہیں اس پرارکان اسمبلی کی دی گئی رائے حکمرانوں کے دین بیزار اور دین دشمنی پر مبنی ذہنوں کو آشکار کرنے کے لیے کافی ہے۔ سود اور شراب پر پابندی کی مخالفت کرنا اللہ اور رسولؐکے احکامات کے خلاف اعلان جنگ عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ جو حکومت سگریٹ پر پابندی عاید اور شراب پر پابندی کو عوامی مفاد عامہ کے خلاف سمجھتی ہے ان سے خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی ،شراب کی فروخت کی اجازت دینا پاکستانی عوام اور نوجوان نسل کو تباہ کرنے کی سازش ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اقلیتوں کی آڑ میں کراچی تا کشمور شراب کی کھلے عام فروخت جاری ہے جبکہ اب تو پولیس،محکمہ ایکسائز اور ڈیلروں کی ملی بھگت سے ہوم ڈیلیوری کی سروس بھی فراہم کی جارہی ہے جس سے خواتین، نوجوان طلبہ اور بزرگ تیزی سے اس لت کا شکار ہورہے ہیں اور معاشرہ بڑی تیزی سے بے راہ روی کا شکار ہورہا ہے۔ صوبائی امیر نے وفاقی اور سندھ حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ پورے ملک میں شراب کی پرمٹ پر فی الفور پابندی عاید کی جائے تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جائے ،دریں اثنا انہوں نے رکن سندھ اسمبلی انیل کمار کی جانب سے شراب پر پابندی کی قرارداد پیش کرنے پر بھی خراج تحسین پیش کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شراب پر پابندی
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔