اپنے بیان میں صوبائی امیر کاشف سعید شیخ نے کہا کہ جو حکومت سگریٹ پر پابندی عائد اور شراب پر پابندی کو عوامی مفاد عامہ کیخلاف سمجھتی ہے، ان سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اسلام ٹائمز۔ جماعتِ اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ شراب پر مکمل پابندی بل کا 2018ء میں قومی اسمبلی اور اب سندھ اسمبلی میں مسترد ہونا قابل شرم بات ہے، اُم الخبائث کے حوالے سے اللہ اور رسولؐ کے احکامات قرآن و سنت کی صورت میں واضح اور دوٹوک موجود ہوں، اس کے اوپر اراکین اسمبلی کی دی گئی رائے ان کے دین بیزار اور دین دشمنی پر مبنی ذہنوں کو آشکار کرنے کیلئے کافی ہے، سود اور شراب پر پابندی کی مخالفت کرنا اللہ اور رسولؐ کے احکامات کے خلاف اعلان جنگ عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اپنے بیان میں کاشف سعید شیخ نے کہا کہ جو حکومت سگریٹ پر پابندی عائد اور شراب پر پابندی کو عوامی مفاد عامہ کیخلاف سمجھتی ہے، ان سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

کاشف سعید شیخ نے کہا کہ شراب کی فروخت کی اجازت دینا پاکستانی عوام اور نوجوان نسل کو تباہ کرنے کی سازش ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ صوبائی امیر نے وفاقی اور سندھ حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ پورے ملک میں شراب کی پرمنٹ اور گتوں پر فی الفور پابندی عائد کی جائے، تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جائے۔ دریں اثناء صوبائی امیر کاشف سعید شیخ نے رکن سندھ اسمبلی انیل کمار کی جانب سے شراب پر پابندی کی قرارداد پیش کرنے پر بھی خراج تحسین پیش کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کاشف سعید شیخ نے کہا شراب پر پابندی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن