خیبر پختونخوا: مرد اساتذہ کی طالبات سے دفاتر میں ملاقات پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پشاور(نیوزڈیسک)خیبر پختونخوا: سرکاری جامعات میں مرد اساتذہ کی طالبات سے دفاتر میں ملاقات پر پابندی عائد کردی گئی ۔
پشاور سے صوبائی محکمہ اعلیٰ تعلیم نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کو خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام ڈپارٹمنٹس میں ایک خاتون فیکلٹی ممبر کو نامزد کیا جائے۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کے خط کے مطابق خاتون فیکلٹی ممبر طالبات کے مسائل اور شکایات سن کر ازالہ کریں گی۔
خط کے مطابق تمام جامعات سال میں کم از کم ہر سہ ماہی میں سیمینار کریں، جس میں طالبات کو ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ کے بارے میں آگاہی دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔