خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں مرد اساتذہ پر طالبات کو اپنے دفتر میں بلانے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں مرد اساتذہ کی طالبات سے اپنے دفاتر میں براہ راست ملاقات پر پابندی عائد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی نظام کو 4 دہائیاں دینے والی خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون وائس چانسلر نورجہاں
اس حوالے سے باقاعدہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے تمام یونیورسٹیوں کو ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کے جاری کردہ خط کے مطابق ہر شعبے میں ایک خاتون فیکلٹی ممبر کو نامزد کیا جائے گا جو طالبات کے مسائل اور شکایات سنیں گی اور ان کے ازالے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کریں گی۔
مراسلے میں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ تمام جامعات سال میں کم از کم ہر 3 ماہ میں ایک سیمینار کا انعقاد کریں جس میں طالبات کو ہراسمنٹ سے تحفظ کے قانون اور ان کے حقوق سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے۔
مزید پڑھیے: جنوبی وزیرستان میں 90 فیصد سرکاری اسکول بند
محکمہ اعلیٰ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد تعلیمی اداروں میں محفوظ اور باوقار ماحول اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبرپختونخوا خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات خیبرپختونخوا مرد اساتذہ کو ہدایت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات خیبرپختونخوا مرد اساتذہ کو ہدایت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔