رمضان المبارک 2026 کا چاند کب نظر آئے گا؟ محکمہ موسمیات نے نئی پیش گوئی کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پاکستان میں رمضان المبارک 1447 ہجری کا چاند 18 فروری 2026 بروز بدھ نظر آنے کا قوی امکان ہے، کیونکہ ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم صاف یا جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے کلائمٹ ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر کے مطابق فلکیاتی پیرامیٹرز کی بنیاد پر 18 فروری کی شام رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے مناسب امکانات موجود ہیں۔ اس طرح 29 شعبان 1447 ہجری کو چاند دکھائی دے سکتا ہے۔
چاند کی پیدائش اور رویت کا وقتمحکمہ موسمیات کے مطابق رمضان المبارک کے چاند کی پیدائش 17 فروری کو شام 5 بج کر ایک منٹ پر ہوگی۔
18 فروری کو چاند نظر آنے کا آخری وقت مختلف علاقوں میں کچھ یوں ہوگا:
آزاد جموں و کشمیر: شام 6:58
گلگت بلتستان: شام 6:53
پنجاب: شام 7:08
خیبر پختونخوا: شام 7:13
سندھ: شام 7:24
بلوچستان: شام 7:47
موسمی حالات سازگار ہونے کی صورت میں چاند کی رویت کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔
رمضان 19 فروری سے شروع ہونے کا امکانقبل ازیں 5 جنوری کو پیش گوئی کی گئی تھی کہ رمضان المبارک کا آغاز 19 فروری سے ہونے کا امکان ہے جبکہ عیدالفطر 21 مارچ کو متوقع ہے۔
رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکریٹری جنرل خالد اعجاز مفتی نے بھی کہا تھا کہ فلکیاتی حساب کے مطابق پہلا روزہ 19 فروری کو ہونے کا امکان ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی اعلان کا اختیار صرف مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو حاصل ہے، جو شرعی شہادتوں کی بنیاد پر اسلامی مہینے کے آغاز کا اعلان کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رمضان المبارک 2026 کا چاند.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک 2026 کا چاند رمضان المبارک کا چاند
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔