ملاقات مثبت رہی، نیتن یاہو کو بتا دیا ایران سے ڈیل ترجیح ہے: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل ترجیح ہے۔ ٹروتھ سوشل جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ اس ملاقات میں نیتن یاہو کے کئی نمائندے بھی موجود تھے، نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات مثبت رہی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا، ایران سے ممکنہ ڈیل کو ترجیح دی جائے گی، ایران سے مذاکرات میں دیکھا جا رہا ہے کہ ڈیل ہوتی ہے یا نہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ ڈیل نہیں ہوتی تو دیکھیں گے کہ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، پچھلی بار ایران نے فیصلہ کیا تھا کہ ڈیل نہ کرنا اس کیلئے بہتر ہے، پھر ایران کو مڈ نائٹ ہیمر بمباری کا سامنا کرنا پڑا تھا، جو کہ ایران کیلئے اچھی ثابت نہیں ہوئی تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے کہ ایران کا رویہ اس بار زیادہ ذمہ دارانہ اور معقول ہو گا، انہوں نے بھی بتایا کہ غزہ میں پیشرفت پر بھی اسرائیلی وزیر اعظم سے بات ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔