نتین یاہو کیساتھ ملاقات میں، میں نے ایران کیساتھ مذاکرات پر زور دیا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ ایران، اس بار زیادہ عقلمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاوس میں اسرائیل کے وزیر اعظم "نتین یاہو" نے امریكی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ نتین یاہو کے ساتھ ملاقات کسی خاص نتیجے پر ختم نہ ہوسکی البتہ ایران سے مذاکرات جاری رہنے پر اتفاق ہوا تاکہ دیکھا جا سکے کہ تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔ امریکی صدر نے اپنے پیغام میں مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ان کی ترجیحی آپشن ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا ہے، بصورت دیگر دیکھنا ہوگا کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران اس بار زیادہ عقلمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا۔
دوسری جانب اعلیٰ ایرانی حکام نے بھی کہا کہ اگرچہ وہ واشنگٹن کے ساتھ سفارت کاری کے آپشن کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہماری مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔ تاکہ کسی بھی غلطی کا دندان شکن جواب دیا جا سکے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دینے کا دعویٰ، ایسے وقت میں سامنے آیا جب گزشتہ برس جون میں، ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کے چھٹے دور کا انعقاد طے تھا، مگر صیہونی رژیم نے امریکہ سے اجازت لے کر ایران پر حملہ کر دیا۔ بعد ازاں امریکی حکام کے اعتراف سے یہ بات سامنے آئی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوران ہی صیہونی فوج، امریکی حکام کے ساتھ تہران پر کارروائی کی ہم آہنگی کر رہی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔