ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑہ تعینات کرنے پر غور کررہے ہیں، جس سے ایران پر فوجی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ سفارتی عمل کے لیے وقت محدود ہے اور واشنگٹن کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جوہری مذاکرات میں بڑی پیشرفت، ایرانی صدر نے اہم ہدایات جاری کردیں
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی بات چیت گزشتہ جمعہ کو عمان میں ہوئی تھی، جو گزشتہ برس اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد پہلا رابطہ تھا۔
ٹرمپ نے منگل کو ایک انٹرویو میں کہاکہ ایک بحری بیڑہ پہلے ہی خطے کی جانب بڑھ رہا ہے اور ممکن ہے دوسرا بھی روانہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر امریکا کو سخت اقدام کرنا پڑے گا، جیسا کہ جون 2025 میں ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں کی صورت میں کیا گیا تھا۔
امریکی صدر کا دعویٰ تھا کہ تہران اب زیادہ سنجیدگی سے بات چیت کررہا ہے کیونکہ اسے یقین ہو چکا ہے کہ واشنگٹن طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے بقول ایرانی قیادت نے ماضی میں صورتحال کا غلط اندازہ لگایا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیاکہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر کسی آسان معاہدے کے ساتھ ساتھ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔
ایران نے جوہری پروگرام سے ہٹ کر کسی بھی موضوع پر مذاکرات کو مسترد کردیادوسری جانب ایران نے جوہری پروگرام سے ہٹ کر کسی بھی موضوع پر مذاکرات کو مسترد کردیا ہے اور یورینیم افزودگی کے حق سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ یورینیم افزودگی خودمختاری کا معاملہ ہے۔
ان کے مطابق ایران اپنے جوہری پروگرام کے پرامن مقاصد واضح کرنے کے لیے تیار ہے، مگر صفر افزودگی کا مطالبہ چاہے جنگ کی دھمکی ہی کیوں نہ دی جائے، قبول نہیں کیا جائے گا۔
ایران نے اپنے میزائل پروگرام پر بات چیت سے بھی انکار کرتے ہوئے اسے دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائی کی تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق گزشتہ حملوں اور ایران کی سرحدوں کے قریب بڑھتی امریکی فوجی موجودگی کے باعث اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بدھ کو واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
نیتن یاہو نے کسی وسیع معاہدے کے امکانات پر شکوک کا اظہار کیا ہے، تاہم ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی قیادت بھی ایک اچھے معاہدے کی خواہاں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر بحری بیڑہ ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر بحری بیڑہ ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز جوہری پروگرام کسی بھی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔