امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑہ تعینات کرنے پر غور کررہے ہیں، جس سے ایران پر فوجی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ سفارتی عمل کے لیے وقت محدود ہے اور واشنگٹن کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران جوہری مذاکرات میں بڑی پیشرفت، ایرانی صدر نے اہم ہدایات جاری کردیں

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی بات چیت گزشتہ جمعہ کو عمان میں ہوئی تھی، جو گزشتہ برس اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد پہلا رابطہ تھا۔

ٹرمپ نے منگل کو ایک انٹرویو میں کہاکہ ایک بحری بیڑہ پہلے ہی خطے کی جانب بڑھ رہا ہے اور ممکن ہے دوسرا بھی روانہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر امریکا کو سخت اقدام کرنا پڑے گا، جیسا کہ جون 2025 میں ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں کی صورت میں کیا گیا تھا۔

امریکی صدر کا دعویٰ تھا کہ تہران اب زیادہ سنجیدگی سے بات چیت کررہا ہے کیونکہ اسے یقین ہو چکا ہے کہ واشنگٹن طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے بقول ایرانی قیادت نے ماضی میں صورتحال کا غلط اندازہ لگایا۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیاکہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر کسی آسان معاہدے کے ساتھ ساتھ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔

ایران نے جوہری پروگرام سے ہٹ کر کسی بھی موضوع پر مذاکرات کو مسترد کردیا

دوسری جانب ایران نے جوہری پروگرام سے ہٹ کر کسی بھی موضوع پر مذاکرات کو مسترد کردیا ہے اور یورینیم افزودگی کے حق سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ یورینیم افزودگی خودمختاری کا معاملہ ہے۔

ان کے مطابق ایران اپنے جوہری پروگرام کے پرامن مقاصد واضح کرنے کے لیے تیار ہے، مگر صفر افزودگی کا مطالبہ چاہے جنگ کی دھمکی ہی کیوں نہ دی جائے، قبول نہیں کیا جائے گا۔

ایران نے اپنے میزائل پروگرام پر بات چیت سے بھی انکار کرتے ہوئے اسے دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائی کی تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق گزشتہ حملوں اور ایران کی سرحدوں کے قریب بڑھتی امریکی فوجی موجودگی کے باعث اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بدھ کو واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

نیتن یاہو نے کسی وسیع معاہدے کے امکانات پر شکوک کا اظہار کیا ہے، تاہم ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی قیادت بھی ایک اچھے معاہدے کی خواہاں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی صدر بحری بیڑہ ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر بحری بیڑہ ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز جوہری پروگرام کسی بھی

پڑھیں:

خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار---فائل فوٹو

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے: کایا کالاس

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔

نائب وزیرِ اعظم  نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار