Islam Times:
2026-06-02@22:06:27 GMT

انقلاب اسلامی ایران کا دوام، شہداء کا مرہون منت

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

انقلاب اسلامی ایران کا دوام، شہداء کا مرہون منت

اسلام ٹائمز: یہ انقلاب ایسی لاتعداد قربانیوں سے محفوظ، مضبوط اور ناقابل شکست ہوا ہے۔ امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ اور انکے جانشینوں نے اس قوم کو شہید پرور بنا دیا ہے۔ اب یہ موت سے ڈرتے نہیں، موت کا ہر رنگ اور ذائقہ انہوں نے چکھ لیا ہے۔ انکو شکست دینا اور ان پر فتح حاصل کرنا ایک دیوانے کا خواب ضرور ہوسکتا ہے، دنیا نے نوزائیدہ انقلاب پر آٹھ سال تک جنگ مسط کرکے بھی دیکھ لیا کہ یہ اسلحہ و طاقت سے شکست نہیں کھا سکتے اور اب انہیں مذاکرات کے چنگل میں پھنسا کر بھی انہیں اسکا شدید احساس ہو رہا ہوگا کہ انہوں نے وقت کو ضائع کیا ہے اور انکے ہاتھ میں کچھ نہیں آنیوالا۔ جو لوگ اس طرح کے خیالات کا اظہار کر رہے تھے کہ ایران کا انقلاب، خمینی کی فکر امریکہ سے مذاکرات کی میز کے نیچے پڑی ردی کی ٹوکری میں چلا گیا، انہیں یقیناً پچھتاوا ہوگا۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر

شرق و غرب کی دلدل میں غرق دنیا کو "لالہٰ الا اللہ۔۔ سپر پاور ہے خدا" کی راہ دکھانے والے عالمی انقلاب، جو جمہوری اسلامی ایران میں ایک خالص عبد خدا امام خمینی (رح) کی رہبری و قیادت میں رونما ہوا، اس کامیابی اور سرفرازی کو آج سینتالیس برس ہوگئے۔ صد شکر کہ مالک ملک پروردگار نے جشنِ بہار، جشن انفجار نور کو دیکھنے کا ایک اور موقع نصیب کیا۔ یقیناً وہ لوگ خوش قسمت ہیں، جنہوں نے امام خمینی کا دور اور ان کے وارث و جانشین امام خامنہ ای کے دور کو دیکھا اور وہ لوگ یقیناً خوش قسمت اور باعث فخر و اعزاز رکھتے ہیں، جنہوں نے مرد خدا، بت شکن زمان حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، ان کا دور دیکھا، ان کے زمانے میں ان کے حامی، ہمدرد، طرفدار، مقلد، معاون، پیرو اور ان کی محبت میں گرفتار رہے۔ اس خالص عبد خدا سے والہانہ عشق کیا۔

جس کا تقویٰ، پرہیزگاری اور معرفت اسے ہر میدان میں سرخرو کرتا گیا اور وہ گزری صدی کا ایسا ہیرو قرار پایا، جس کی شخصیت و کردار کی خوشبو آج بھی چہار سو پھیلی ہوئی فضا کو معطر و منور رکھے ہوئے ہے۔ دنیا ان کی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہے۔ ہر آزادی پسند، حریت فکر کا پروردہ ان کے ہر فرمان، قول اور پیش کردہ کردار کو اپنے لئے واجب عمل سمجھ کر آتش نمرود میں کود جانے کے جذبہ عشق کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔ ہم تاریخ انقلاب کا مطالعہ کریں تو ہمیں حیرت زدہ ماحول و مثالیں ملیں گی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایرانی مائوں نے اپنے خوبرو جوان دیئے کہ امام خمینی کا انقلاب محفوظ رہے۔ نو بیاہتا دلہنوں نے اپنے سہاگ اجاڑ دیئے کہ اسلام خالص محمدی کا احیاء قائم رہے۔ اس انقلاب کی جدوجہد، قیام اور حفاظت کیلئے ان گنت اور لاتعداد فرزندان توحید نے اپنا خون نچھاور کر دیا۔

انقلاب اسلامی ایران ہزاروں نہیں، بلا شبہ لاکھوں قربانیوں کا حاصل ہے۔ اس کی سوچ کی پہلی کرن سے لیکر انقلاب اسلامی کے وقوع پذیر، یعنی انفجار نور تک اور انقلاب کی سینتالیس بہاریں دیکھنے تک، ہم یہ کہنے میں حق بہ جانب ہیں کہ ایسی قربانیاں کسی اور انقلاب نے طول تاریخ میں پیش نہیں کیں۔ ان قربانیوں نے ہی آج تک انقلاب اسلامی کو دوام بخشا ہے۔ اس انقلاب کو برپا کرنے، یعنی انقلاب کی جدوجہد میں ساواک اور ظالم شاہی حکومت کے مظالم کے ہاتھوں قربان ہو جانے والے شہدائے انقلاب کی تعداد اپنی جگہ بہت زیادہ ہے۔ ان قربانیوں کا تذکرہ اور ان کو خراج تحسین پیش کرنا اپنی جگہ اہم ہے۔ ہاں وہ قربانیاں جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اس کو دوام بخشنے کیلئے اور آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں لاکھوں کی تعداد میں دی گئیں، جس جنگ میں اٹھاون ممالک ایک طرف تھے اور اکیلا نوزائیدہ ملک ایک طرف تھا۔۔۔

کیا ایسی قربانی کسی نے دی ہے کہ سرزمین وحی مکہ کی جائے امن پر، جہاں ایک کیڑے، مکوڑے اور چیونٹی کو مارنے کا بھی کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے، ان خدا کے مہمانوں کا اور کوئی قصور نہیں تھا کہ وہ امام خمینی کے حکم پر حج کو اس کی اصل روح کے ساتھ ادا کرنے کا فریضہ ادا کر رہے تھے۔ ان عظیم قربانیوں کو بھلا کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ اور ان قربانیوں کو بھی اس موقع پر نظر انداز نہیں کرسکتے، جو معصوم و بے گناہ بوئنگ کے مسافروں کو امریکی میزائل حملے میں شہید ہونے والوں نے دی تھیں، حالانکہ ان کا کوئی قصور نا تھا۔۔۔ میں ان قربانیوں سے بھی صرف نظر نہیں کرسکتا ہوں، جو صدام ملعون کے کیمیکل حملے میں دنیا کے سامنے دی گئیں، مگر کسی نے اس جارح سفاک، ظالم کی مذمت کرنا گوارا نا کیا۔۔۔ میں ان قربانیوں کو بھی ایک لحظہ کیلئے فراموش نہیں کرسکتا، جو قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کی تحریک میں ارض فلسطین، لبنان، شام میں فرزندان خمینی، پاکباز مجاہدوں نے دی ہیں۔۔۔

میں افغانستان میں عاشقان خمینی کے سینے چھلنی ہونے کے واقعات کو بھی بھلا نہیں سکتا۔۔۔ میں شام جو ارض فلسطین کی آزادی اور مزاحمت اسلامی کا اولین مددگار و معاون ملک تھا، کے دفاع کیلئے کئی برس تک فرزندان خمینی کی چنیدہ شخصیات اور ہزاروں قربانیوں اور اس راہ میں آنے والی ان گنت مشکلات و مصائب کو فراموش نہیں کرسکتا۔۔۔ میں عراق میں عالمی سازش کاروں کو روکنے کی جدوجہد میں مصروف اور سینکڑوں کی تعداد میں قیمتی ترین فرزندان روح اللہ کی دی جانے والے قربانیوں کو بھی ایک لحظہ کیلئے بھی فراموش کرنا محال سمجھتا ہوں۔۔۔ میں یہ نہیں بھول سکتا۔۔۔ کہ اس انقلاب کے فرزندوں نے ہمارے وطن، اس پاک سرزمین پر بھی بے انتہا قیمتی افراد کو قربان کیا ہے۔۔ اس انقلاب کے تحفظ، ترویج و تبلیغ، پیغام رسانی اور امام خمینی کے لائے ہوئے انقلاب کی خوشبو پھیلانے کے جرم میں اس پاک وطن میں بھی بہت ہی قیمتی افراد کو کھویا ہے۔۔

میرے لئے ممکن نہیں کہ میں ان ایرانی کیڈٹس کو بھول جائوں، جنہیں راولپنڈی میں دوران ٹریننگ عالمی دہشت گردوں کے گماشتوں نے شہید کر دیا تھا اور ان کے مستقبل کے خواب چکنا چور ہوگئے تھے۔۔۔ میں کراچی میں پل بناتے انجینئرز کو نہیں بھول سکتا، جنہیں اس ملک کو تعمیر کرنے اور یہاں کی عوام کو سہولیات بہم پہنچانے کے جرم میں سرخ کفن پہنا کر ان کے دیس روانہ کیا گیا تھاا۔۔۔ میں ان ایرانی بھائیوں کو ہرگز نہیں بھول سکتا، جو اس پاک وطن میں رزق کماتے کبھی ہوٹلز پر اور کبھی اپنی بیکریز پر مارے گئے۔۔۔ میں سینتالیسویں سالگرد انقلاب کے اس موقعہ پر پشاور قونصلیٹ میں تعینات ان مہمان سفارت کاروں کو کیسے بھول جائوں، جنہوں نے اپنے فرائض کی بجا آوری میں استعمار کے نمک خواروں کے ہاتھوں شہادت کا اعزاز اپنے نام کیا۔۔۔

میں کس طرح بھول جائوں اس فرزند انقلاب کو، جس نے لاہور میں آکر اہلیان پاکستان بالخصوص ادبی، ثقافتی، علمی و دینی شخصیات سے اس قدر محبتیں سمیٹیں کہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر کہتے تھکتے نہ تھے۔ پاکستان کی محبت میں اردو زبان کو سیکھا اور بولا، اردو ادب کو فروغ دینے کی جدوجہد کی اور اہلیان پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کو اس سطح پر لے گئے، جہاں ان کے بعد کوئی نا لے جا سکا۔ میری مراد شہید صادق گنجی کہ جنہیں 1992ء میں لاہور کی مال روڈ پر دشمنان خدا نے گولیوں سے بھون دیا۔ یہ عظیم قربانی بھلا کیسے سالگرہ انقلاب کی خوشیوں میں بھلائی جا سکتی ہے۔ اس لئے کہ شہید صادق گنجی نے انقلاب کے پیغام کو جس انداز میں اور جن جن حلقوں میں پہنچایا تھا، وہ آج بھی یادگار اور ناقابل فراموش ہے۔۔۔!

میں انقلاب کی اس عظیم قربانی کو اس عظیم موقعہ پر ضرور یاد کروں گا، جو سرزمین اولیاء ملتان میں علم و ہنر بکھیرتے آقائے محمد علی رحیمی اور ان کے ہمراہ سات دیگر پاکستانیوں نے 2 فروری 1992ء کے دن ساڑھے گیارہ بجے کے قریب دی۔ آقائے محمد علی رحیمی خانہ فرہنگ ملتان کے ڈائریکٹر جنرل تھے، وہ اس سے قبل چار سال تک ہندوستان میں رہے تھے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک جبکہ ہندوستان ایک کافر ملک تھا، پاکستان ایران کا ہمسایہ اور ہندوستان سے ایسا کوئی رشتہ نہ تھا، آقائے محمد علی رحیمی، آقائے صادق گنجی کے بعد واحد ڈائریکٹر جنرل تھے، جنہیں کسی پاکستانی سے بات کرتے ہوئے مترجم کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، وہ اردو خوب جانتے اور بول سکتے تھے۔ انہوں نے اپنے قاتلوں کو بھی فارسی کلاس میں پڑھایا تھا، وہ ان کے استاد تھے، مگر استعمار کے نمک خواروں نے انہیں دن دیہاڑے خانہ فرہنگ میں گھس کر کلاشنکوفوں سے فائر کرکے شہید کر دیا تھا۔

ان کے ہمراہ دو اہل سنت بھی شہید ہوئے تھے۔ اس قربانی کا وہ دردناک منظر نہیں بھلایا جا سکتا، جب ان کی اہلیہ خانم مریم رحیمی نے اہل پاکستان کے سوال پر اپنے تاثرات کا ان الفاظ میں دکھ بھرے انداز میں اظہار کیا؛ میں ایک کافر ملک (ہندوستان) میں چار سال تک رہی، مگر وہاں مجھے کبھی کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا، جبکہ ہم ایک دوست ہمسائے اور مسلمان ملک میں جب سے آئے تھے، ہر وقت خطرات کا اظہار کیا جاتا تھا اور بالآخر آج میں یہاں (اس دوست، مسلمان ہمسائے ملک) سے اپنے شوہر کی لاش لے کر جا رہی ہوں۔ ایسے ہی الفاظ شہید صادق گنجی کی بیوہ کے تھے۔ اس انقلاب کی سالگرہ کے دن سردار قاسم سلیمانی، ان کے عظیم رفقاء، ان کے شاگردان، ان کے عشاق، چاہے وہ فاطمیون کی شکل میں تھا یا زینبیون کے عنوان سے، حیدریون تھے یا خمینیون، حشد الشعبی کے جانثاران تھے یا حزب اللہ کے سرفروش۔ انصار اللہ سے بیعت تھے یا اہل فلسطین، اہل غزہ سے ان گنت عظیم المرتبت شہداء کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ یہی وہ مردان خالص خدا تھے، جن کا پاکباز لہو کی بدولت ہم آج سینتالیسویں سالگرہ منا رہے ہیں۔

یہ انقلاب ایسی لاتعداد قربانیوں سے محفوظ، مضبوط اور ناقابل شکست ہوا ہے۔ امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ اور ان کے جانشینوں نے اس قوم کو شہید پرور بنا دیا ہے۔ اب یہ موت سے ڈرتے نہیں، موت کا ہر رنگ اور ذائقہ انہوں نے چکھ لیا ہے۔ ان کو شکست دینا اور ان پر فتح حاصل کرنا ایک دیوانے کا خواب ضرور ہوسکتا ہے، دنیا نے نوزائیدہ انقلاب پر آٹھ سال تک جنگ مسط کرکے بھی دیکھ لیا کہ یہ اسلحہ و طاقت سے شکست نہیں کھا سکتے اور اب انہیں مذاکرات کے چنگل میں پھنسا کر بھی انہیں اس کا شدید احساس ہو رہا ہوگا کہ انہوں نے وقت کو ضائع کیا ہے اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں آنے والا۔ جو لوگ اس طرح کے خیالات کا اظہار کر رہے تھے کہ ایران کا انقلاب، خمینی کی فکر امریکہ سے مذاکرات کی میز کے نیچے پڑی ردی کی ٹوکری میں چلا گیا، انہیں یقیناً پچھتاوا ہوگا۔ انہیں اپنی سوچ کو بدلنا پڑے گا کہ انقلاب کی سینتالیسویں بہار کا دن آن پہنچا ہے اور خمینی کے فرزندان اپنے نظریہ و سوچ کے ساتھ انقلاب کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یمن، بحرین، لبنان، عراق، شام، مقاومت اسلامی کے سرخیل، چاہے ان کا تعلق دنیا کے کسی بھی خطے سے ہو، وہ انقلاب کا پیامبر بن کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

آخر میں انقلاب کے حوالے سے ایک کلام سے استفادہ کرتے ہیں۔
لال آتش و برقِ سحاب پیدا کر
اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر
ترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاں
ہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کر
صدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہ
تو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا کر
بہت لطیف ہے اے دوست تیغ کا بوسہ
یہی ہے جانِ جہاں اس میں آب پیدا کر
ترے قدم پہ نظر آئے محفلِ انجم
وہ بانکپن، وہ اچھوتا شباب پیدا کر
ترا شباب امانت ہے ساری دنیا کی
تو خارزارِ جہاں میں گلاب پیدا کر
سکون خواب ہے بے دست و پا ضعیفی کا
تو اضطراب ہے خود اضطراب پیدا کر
نہ دیکھ زہد کی تو عصمتِ گنہ آلود
گنہ میں فطرتِ عصمت مآب پیدا کر
ترے جلو میں نئی جنتیں، نئے دوزخ
نئی جزائیں، انوکھے عذاب پیدا کر
شراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خوں سے
تو اب امیر کے خوں سے شراب پیدا کر
گرا دے قصرِ تمدن کہ اک فریب ہے یہ
اٹھا دے رسمِ محبت، عذاب پیدا کر
جو ہوسکے ہمیں پامال کرکے آگے بڑھ
نہ ہوسکے تو ہمارا جواب پیدا کر
بہے زمیں پہ جو میرا لہو تو غم مت کر
اسی زمیں سے مہکتے گلاب پیدا کر
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہوسکے تو ابھی انقلاب پیدا کر
اسرار الحق مجاز

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انقلاب اسلامی ان قربانیوں قربانیوں کو اس انقلاب کی جدوجہد انقلاب کی انقلاب کے اور ان کے انہوں نے کا اظہار ایران کا خمینی کے پیدا کر نے اپنے رہے تھے نہیں ا سال تک کو بھی

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب