ایران کسی بھی جوہری تصدیق کے لیے تیار، ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے، صدر مسعود پزشکیان
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام کی کسی بھی قسم کی تصدیق کے لیے تیار ہے کیونکہ تہران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔
اسلامی انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے، مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے ساتھ مذاکرات میں میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ایران کا اعلان
’ہم یہ بات بارہا واضح کر چکے ہیں اور کسی بھی قسم کی تصدیق کے لیے تیار ہیں۔‘
انقلاب ایران کی سالگرہ امریکا کی جانب سے فوجی دھمکیوں کے پس منظر میں منائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے بعد بھی ایران اس معاملے پر ’غیر ضروری اور حد سے بڑھے ہوئے مطالبات‘ تسلیم نہیں کرے گا۔
دارالحکومت تہران کے آزادی اسکوائر میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران حد سے بڑھے ہوئے امریکی مطالبات کے سامنے نہیں جھکے گا۔
’ہمارا ایران جارحیت کے سامنے سر نہیں جھکائے گا، تاہم ہم خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پوری قوت سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی اسکوائر امریکا انقلاب ایران ایران تہران جوہری ہتھیار سالگرہ صدر مسعود پزشکیان مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آزادی اسکوائر امریکا انقلاب ایران ایران تہران جوہری ہتھیار سالگرہ صدر مسعود پزشکیان مذاکرات مسعود پزشکیان کے لیے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔