WE News:
2026-07-24@00:55:50 GMT

لاہور نے کر دکھایا، اب پی پی کراچی میں رونق لگا کر دکھائے

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

10 دسمبر کو خبر آتی ہے امریکی ایگزم بینک پاکستان میں ایک ارب 25 کروڑ ڈالر فنڈنگ فراہم کرے گا۔ یہ فنڈنگ ریکوڈک کے لیے ہوتی ہے۔ اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ یہ چند ہفتوں میں فراہم کر دی جائے گی۔ وہ چند ہفتے ابھی پورے نہیں ہوتے اور 31 جنوری کو بلوچستان میں دہشتگردی کی ایک بڑی کاروائی ہو جاتی ہے۔ کلین اپ آپریشن دو تین دن جاری رہتا ہے۔

3  فروری کو قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف پاکستان پہنچتے ہیں۔ یہ ان کا پہلا سرکاری دورہ ہوتا ہے ایئرپورٹ پر صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف ان کا استقبال کرتے ہیں۔ 2 روزہ دورہ ختم کر کے قازق صدر واپس جاتے ہیں تو ازبکستان کے صدر 5 فروری کو پاکستان پہنچ جاتے ہیں۔ 6 فروری کو ازبک صدر کی واپسی ہوتی ہے۔ 6 فروری کو ہی اسلام آباد میں خود کش دھماکہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

اس دھماکے کے بعد بسنت کے حوالے سے پنجاب حکومت سرکاری تقریبات منسوخ کر دیتی ہے۔ 2 دہائی کے بعد لاہور میں بسنت منائی جانی ہے۔ پھر بھی لاہوریے بسنت کا ماحول بنا دیتے ہیں۔ اسلام آباد سے ڈپلومیٹ لاہور پہنچتے ہیں، پاکستانی ملک بھر سے اور باہر سے شریک ہونے آتے ہیں۔ غیر ملکی بھی پہنچتے ہیں۔ رونق لگ جاتی ہے۔  پی ٹی آئی ٹرول، شدت پسند، موقع کی تلاش میں رہنے والے سب لوگ بسنت پر تنقید کرتے ہیں، ناکام رہتے ہیں۔

8 فروری بسنت کا آخری دن ہوتا ہے۔ اسی 8 فروری کو 2024 میں انتخابات ہوئے تھے۔ جن میں دھاندلی کے خلاف اور کپتان کی رہائی کے حق میں پی ٹی ائی احتجاج کا اعلان کرتی ہے۔ احتجاج کی اس کال کو صرف محمود خان اچکزئی سیریس لیتے ہیں جس کا نتیجہ کوئٹہ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں مارکیٹیں بند نکلنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ہڑتال ناکام رہتی ہے۔ کپتان کی اپنی فیملی بسنت مناتی پائی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اپنی پارلیمانی پارٹی کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے الگ بیٹھنے کا اعلان کر دیتے ہیں، جیسے احتجاج شاید ان کو بھگانے کے لیے ہی کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے: محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

یہ پاکستان ہے جہاں دہشتگردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ غیر ملکی مہمان ان کارروائیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے دورے کرنے آتے ہیں۔ بسنت کا میلہ فیل گڈ امپریشن بناتا اور دکھاتا ہے۔ پی ٹی آئی کا احتجاج جو اب ’سنڈی‘ رونا بن چکا ہے وہ بھی ساتھ ہی چلتا ہے۔ ہمارا نیو نارمل ہے جس کے ساتھ ہم رہ رہے ہیں۔ اس سب میں آپ کوئی بھی پوزیشن لے سکتے ہیں۔ بدامنی سیاسی عدم استحکام پر تنقید کر سکتے ہیں۔ بسنت فیسٹیول کے جوش اور مستی کی تعریف کر سکتے ہیں۔ غیر ملکی صدور کی آمد پر سفارتکاری کی تعریف کر سکتے ہیں۔ مہنگائی پر حکومت کی ایسی تیسی پھیر سکتے ہیں۔ جو آپ کا دل کرے۔

بلوچستان میں ہونے والی بدامنی پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔ دل چاہے تو حوالدار بشیر کو خوب سنائیں اس کا دل کیا تو ان نون نمبر سے کال کر دے گا کہ بیٹا ویگو ہے کوئی نہیں، تو بائیکیا کرا اور آ ذرا نوٹس ملائیں پیار محبت کریں۔ اس ملک میں ہر طرح کے ذائقے موجود ہیں۔ تلخ بھی ترش بھی میٹھے بھی اور پھیکے بھی۔ ہمیں کیا پسند ہے ہم کرنا کیا چاہتے ہیں ہمارا آپشن کیا ہے۔ ان سب باتوں کا جواب یہیں موجود ہے۔

پاکستان میں بدامنی بہت سے علاقوں میں ہے۔ اپوزیشن کی صورت میں پی ٹی آئی ایک غیر روایتی انداز میں احتجاجی سیاست کر رہی ہے۔ جو سارے ٹمپریچر کو بوائلنگ پوائنٹ پر رکھنے کے گرد گھومتی ہے۔ ریاست کے ہر اقدام کی مخالفت کو احتجاج اور غصہ ظاہر کرنے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ جس کو اب کوئی اور تو کیا سیریس لے گا خود پارٹی قائدین بھی نہیں لیتے۔

مزید پڑھیں: کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن

بسنت کو ایک اور طرح دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مریم نواز نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ پاکستان کا سافٹ ثقافتی رخ بھی ہے۔ جس میں رنگ ہیں، لوگ خوشی سے ناچتے ہیں، جشن مناتے ہیں، مہمانداری کرتے ہیں۔ حکومت انتظام بہتر رکھتے ہوئے ماحول فراہم کرتی ہے۔ یہ سرمایہ کاروں کی توجہ مبذول کرائے گا۔ اب یہاں کچھ سوالات ہیں۔ پاکستانیوں کے پاس اپنا پیسہ بہت ہے، ان کو حکومت کی پالیسیوں پر اعتبار نہیں ہے۔ امن استحکام انتظام اور انفراسٹرکچر پھر بھی اتنی بڑی اٹریکشن ہے کہ کام چل سکتا ہے اور میلہ لگ سکتا ہے۔ اب پیپلز پارٹی کی باری ہے کہ وہ ملک کے معاشی حب کراچی میں رونق لگائے کوئی جادو دکھائے تاکہ معیشت کا رک رک چلتا پہیہ دوڑے اور لوگوں کو کوئی سکھ کا سانس آئے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

بسنت بسنت کا کامیاب انعقاد پیپلز پارٹی ریکوڈک فنڈنگ کراچی لاہور ن لیگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بسنت کا کامیاب انعقاد پیپلز پارٹی ریکوڈک فنڈنگ کراچی لاہور ن لیگ پی ٹی آئی سکتے ہیں فروری کو جاتی ہے بسنت کا کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا