سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس، 3 ججوں کے خلاف شکایات پر کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ججوں کے خلاف 50 شکایات نمٹا دی گئیں جبکہ 3 شکایات پر کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں 59 شکایات کا جائزہ لیا گیا، 50 شکایات نمٹا دی گئیں اور 3 پر کارروائی آگےبڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف شکایات پر کارروائی کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف شکایات پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ عتیق شاہ نے کونسل ممبر کی حیثیت سے شرکت کی۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے 6 شکایات پر کارروائی مؤخر کردی اور 3 شکایات پر مزید کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے رولز میکنگ ڈرافٹ کا معاملہ اگلے اجلاس تک مؤخر کردیا۔
نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا اجلاس
چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے 57 واں اجلاس ہوا، جس میں عدالتی اصلاحات اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاپتہ افراد اور گرفتار افراد کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کرنے کے خلاف باقاعدہ شکایتی نظام دو ہفتوں میں تیار کیا جائے گا۔
چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل جبری گمشدگیوں اور گرفتاریوں سے متعلق قانونی فریم ورک پر باقاعدہ پیش رفت رپورٹ پیش کریں گے۔
اجلاس میں عدالتی اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت کے رہنما اصولوں کی منظوری دے دی گئی اور ہائی کورٹس کو عدالتی مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے لیے اپنے طریقہ کار اور حفاظتی نظام خود وضع کرنے کا اختیار ہوگا۔
اسی طرح تمام اضلاع میں ای فائلنگ کے نفاذ کے لیے عدالتی قواعد میں ترامیم کا فیصلہ اور لازمی پری ٹرائل ثالثی کے لیے قانون سازی میں تیزی لانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
اجلاس میں تمام ہائی کورٹس میں غیرملکی ثالثی فیصلوں سے متعلق مقدمات کے لیے مخصوص بینچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ ایف بی آر کی جانب سے بے بنیاد اپیلوں کی حوصلہ شکنی اورغیرضروری مقدمات کی اسکریننگ کے اقدامات کو سراہا گیا۔
ہائی کورٹس اور ضلعی عدلیہ کی بروقت مقدمات نمٹانے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بتایا گیا کہ یکم ستمبر 2025 سے 15جنوری 2026 تک ملک بھر میں 7 لاکھ 54 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے، لاہور ہائی کورٹ میں 2020 سے قبل کے تقریباً تمام پرانے مقدمات نمٹا دیے گئے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ماڈل سول و فوجداری عدالتوں میں چار ماہ کے دوران 59 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جیل اصلاحات پر کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔
مزید برآں 27-2026 کے دوران تمام صوبوں میں خواتین کے لیے فیملی سپورٹ اور میڈی ایشن مراکز قائم کرنے پر توجہ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل اسلام آباد ہائی کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل شکایات پر کارروائی فیصلہ کیا گیا کا فیصلہ کیا ججوں کے خلاف اجلاس میں چیف جسٹس گیا کہ کے لیے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔