طارق رحمان کو کامیابی کا مکمل یقین، ووٹ ڈالنے کے بعد بڑا بیان
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین اور ڈھاکہ-17 سے جماعت کے انتخابی نشان ’دھان کی بالی‘ کے امیدوار طارق رحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد اپنی کامیابی کے حوالے سے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’100 فیصد پُرامید‘ ہیں کہ کامیابی ان ہی کی ہوگی۔
طارق رحمان نے جمعرات کی صبح گلشن کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام اس دن کا ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ شہری بھرپور جوش و خروش کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیں گے اور ملک میں ’ایک نئے جمہوری بنگلہ دیش‘ کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
سیکیورٹی صورتحال پر اطمینانرات کے دوران پیش آنے والے چند چھوٹے واقعات کے حوالے سے سوال پر طارق رحمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مؤثر اور سخت کارروائی کی، جو ایک حوصلہ افزا بات ہے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع، حسینہ واجد حکومت گرائے جانے کے بعد سے انتخابات تک کا غیر معمولی سفر
انہوں نے ووٹرز اور پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پورا دن پولنگ اسٹیشنز پر مستعد رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی بھرپور شرکت کسی بھی ’سازش کو ناکام بنانے‘ میں مددگار ثابت ہوگی۔
انتخابی نتائج سے متعلق سوال پر طارق رحمان نے پراعتماد انداز میں کہا کہ وہ اور ان کی جماعت ’کامیابی کے لیے مکمل طور پر پُرامید‘ ہیں۔
حکومت بنی تو پہلی ترجیح کیا ہوگی؟طارق رحمان نے کہا کہ اگر ان کی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو امن و امان کی بہتری اولین ترجیح ہوگی تاکہ عام شہری خود کو ملک میں محفوظ محسوس کریں۔
انہوں نے خواتین کی شمولیت اور بااختیار بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ خواتین آبادی کا نصف حصہ ہیں اور انہیں نظر انداز کرکے ترقی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیے جولائی تحریک کی بازگشت: بنگلہ دیش میں نوجوانوں کے جوش کے ساتھ ووٹنگ جاری
ملک بھر میں ووٹنگ کے مجموعی ماحول سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا، وہ صورتحال کا مزید جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کریں گے۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر طارق رحمان نے ملک کے لیے پرامن اور مستحکم مستقبل کی امید کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش عام انتخابات 2026 بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی طارق رحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش عام انتخابات 2026 بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی بنگلہ دیش نے کے بعد انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔