پاکستان میں پہلا روزہ کس تاریخ کو ہوگا؟ڈی جی محکمہ موسمیات نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات صاحبزاد خان کے مطابق پاکستان میں رمضان المبارک 1447 ہجری کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کے قوی امکانات ہیں جبکہ پہلا روزہ 19 فروری کو ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ رمضان کے نئے چاند کی پیدائش 17 فروری کو شام 5 بج کر ایک منٹ پر ہوگی، جس کے بعد 18 فروری کی شام کو چاند نظر آنے کے امکانات روشن ہیں۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں اس روز موسم جزوی ابر آلود یا صاف رہنے کی توقع ہے جو چاند دیکھنے کے امکانات کو بہتر بنا سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا: سرکاری جامعات میں مرد اساتذہ کی طالبات سے اپنے دفتر میں ملاقات پر پابندی عائد
محکمہ موسمیات نے مختلف صوبوں کے لیے چاند دیکھنے کے آخری اوقات بھی جاری کر دیئے ہیں۔ جاری تفصیلات کے مطابق سندھ میں چاند دیکھنے کا آخری وقت شام 7 بج کر 24 منٹ ہوگا، پنجاب میں چاند دیکھنے کا وقت شام 7 بج کر 8 منٹ تک ہوگا جبکہ بلوچستان میں چاند دیکھنے کا آخری وقت شام 7 بج کر 47 منٹ مقرر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق فلکیاتی حساب کے مطابق 18 فروری کی شام تک چاند کی عمر مناسب حد تک ہو جائے گی جس سے رویت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، تاہم رمضان المبارک کے آغاز کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی شہادتوں اور سرکاری اعلان کے بعد ہی کیا جائے گا۔
بھارت: بیٹے نے گھریلو تنازع پر والدین کو قتل کر دیا
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق اگر 18 فروری کو چاند نظر آ گیا تو پاکستان میں رمضان المبارک کا پہلا روزہ 19 فروری 2026 کو ہونے کا قوی امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات چاند دیکھنے کے مطابق فروری کو
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔