ٹی20 ورلڈ کپ، دہلی اسٹیڈیم میں میچ کے دوران استعمال شدہ سافٹ ڈرنک دوبارہ پیک کرنے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران نئی دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ تھمز اپ سافٹ ڈرنک کی استعمال شدہ باقی بچی ہوئی مقدار دوبارہ بوتل میں بھری جا رہی ہے۔
"भाई यह देखो! अरुण जेटली स्टेडियम। अब जो #Thumsup बच गई है ना, उसे बोटल में फिर से डाल रहे हैं। अगला जो भी मैच होगा, उसमें चली जाएगी। देख रहे हो स्कैम।" pic.
— Arvind Sharma (@sarviind) February 11, 2026
صارفین نے اس ویڈیو پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ ’اگلا جو بھی میچ ہوگا یہ بوتل اس میں استعمال ہو جائے گی۔ دیکھ رہے ہو اسکیم‘۔
دوسرے صارف وقاص نے کہا کہ ’وہ لوگ بچی ہوئی بوتل کو اسی گلاس میں رکھی تھوڑی چھوڑ دیں گے‘ جبکہ کئی دیگر صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ گلاس بھی دوبارہ استعمال کیا جائے گا۔
Aree to bachi hoyi thumsup ko usi glass thodi hi rake chode thodi denge kya vo log. Kuch bhi????
— ????????????????????⁴⁵ (@Vac045) February 11, 2026
ایک صارف نے طنزاً لکھا کہ دنیا میں پہلی بار کرکٹ میچ میں بچا ہوا سافٹ ڈرنک دوبارہ استعمال کے لیے جمع کیا گیا۔
First time in world, left over soft drink collected for reuse???? in India at a cricket match. @icc @ICCMediaComms @cricketworldcup @ICCLive @icc@BCCI @BCCIWomen @BCCIdomestic @BCCIWomenLIVE @imVkohli @msdhoni @sachin_rt @IPL @ChennaiIPL @PunjabKingsIPL @IPLFantasy https://t.co/veFoisA4Do
— New India/नया भारत ???????? (@newbharatwasi) February 12, 2026
یہ واقعہ صارفین اور شائقین میں مشروبات کی حفظان صحت اور اسٹیڈیم انتظامیہ کے اقدامات کے حوالے سے تشویش پیدا کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارون جیٹلی اسٹیڈیم انڈیا انڈیا اسٹیڈیم انڈیا میچز بچی ہوئی سافٹ ڈرنگ ٹی 20
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا انڈیا اسٹیڈیم انڈیا میچز ٹی 20
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔