’سورج کی روشنی پر ٹیکس قبول نہیں‘ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کی نئی سولر پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’عوام پر معاشی حملہ‘ قرار دے دیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کے نتیجے میں عوام پر تقریباً 250 ارب روپے کا اضافی مالی دباؤ پڑے گا۔
پارٹی کے مطابق مذکورہ اضافی مالی دباؤ کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:
پی ٹی آئی کے ترجمان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت ایک جانب سولر صارفین سے بجلی کم نرخ پر خریدنے کی تیاری کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب وہی بجلی کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کی جائے گی۔
’یہ پالیسی دراصل سورج کی روشنی پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔ کیا اپنی چھت پر سولر پینل لگانا اب جرم بن چکا ہے؟‘
ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ سولر توانائی ملک میں سستی اور صاف بجلی کا ذریعہ بن رہی تھی اور اس سے صارفین کو خود کفالت کی طرف بڑھنے کا موقع ملا۔ ت
اہم نئی پالیسی کے ذریعے اس رجحان کو دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ توانائی کے شعبے میں موجود مہنگے معاہدوں کو بچانے کے لیے سولر صارفین کو بددل کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں دوبارہ مہنگے گرڈ سسٹم پر انحصار کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
پی ٹی آئی کے مطابق یہ فیصلہ محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں توانائی کے شعبے کی بدانتظامی اور نااہلی کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
’سولر پالیسی کے نام پر عوام سے 250 ارب روپے وصول کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔‘
بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نئی پالیسی پر فوری نظرِ ثانی کی جائے، نیٹ میٹرنگ اور سولر سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بحال کیا جائے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں۔
پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر ہر فورم پر آواز بلند کرے گی اور اسے معاشی ناانصافی قرار دیتے ہوئے عوامی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی توانائی سرمایہ کاری سولر گرڈ سسٹم نظر ثانی نیٹ میٹرنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی توانائی سرمایہ کاری سولر نیٹ میٹرنگ پی ٹی آئی کے لیے کیا جا
پڑھیں:
کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔
مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔