ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ممبران کا دیرینہ مسئلہ حل، 15 ہزار ممبران کو پلاٹس فراہم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سٹی42: ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے ممبران کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے حکومت نے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پلاٹس کی فراہمی اور پرائیویٹ ڈویلپرز کے ذریعے منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں 15 ہزار ممبران کو پلاٹس فراہم کیے جا سکیں گے۔ پرائیویٹ ڈویلپرز سے معیاری پلاٹس ممبران کے لیے حاصل کیے جائیں گے اور پلاٹس کی پروکیورمنٹ میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر یقینی بنائی جائے گی۔
سرد ہواؤں سے خنکی برقرار، لاہور آلودہ ترین شہروں میں تیسرے نمبر پر
ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے ایم ڈی عمر علوی نے پرائیویٹ پروکیورمنٹ کی تفصیلات پر بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ 30 ڈویلپرز نے حکومتی اقدام میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ حکام کے مطابق اگلے چند ماہ میں پلاٹس کی الاٹمنٹ کامیابی سے مکمل کی جائے گی۔
سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے کہا کہ ممبران صرف 30 فیصد ادائیگی پر پلاٹ کا قبضہ حاصل کر سکیں گے، جبکہ بقیہ رقم آسان اقساط میں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ممبران کا مسئلہ حل کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
بنگلا دیش میں عام انتخابات کیلئے میدان سج گیا،جماعت اسلامی اور بی این پی میں سخت مقابلہ
اجلاس میں صلوت سعید، کوثر خان، آفتاب احمد اور دیگر بورڈ ممبران بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 ہاؤسنگ فاؤنڈیشن
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟