اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کیلئے بھوک کی پالیسی؟ قیدیوں کے چونکا دینے والے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو مناسب خوراک فراہم نہیں کی جا رہی اور وہاں “بھوک کی پالیسی” پر عمل کیا جا رہا ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی سپریم کورٹ پانچ ماہ قبل جیل حکام کو قیدیوں کے حالات بہتر بنانے کا حکم دے چکی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کئی فلسطینی قیدی رہائی کے بعد شدید کمزوری اور بیماری کی حالت میں سامنے آئے ہیں۔ نابلس سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ سامر خواہیریہ نے بتایا کہ انہیں میگیدو اور نفحہ جیل میں روزانہ صرف چند پتلے ٹکڑے روٹی، تھوڑی سی حمص اور تحینی دی جاتی تھی جبکہ ہفتے میں دو بار ٹونا فراہم کی جاتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نو ماہ کی قید کے دوران 22 کلو وزن کم کر بیٹھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر اور جنوری کے دوران سامنے آنے والی 13 شکایات میں 27 قیدیوں نے خوراک کی کمی کی نشاندہی کی اور دعویٰ کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود حالات میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔
ایسوسی ایشن فار سول رائٹس ان اسرائیل (ACRI) نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ جیلوں میں دانستہ طور پر سخت حالات برقرار رکھے جا رہے ہیں۔ تنظیم نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں تک ریڈ کراس کو رسائی دی جائے اور جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
ادھر اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ جیلوں کا نظام قانون کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جیلوں کا انتظام سخت گیر وزیر اتمار بن گویر کے سپرد کر رکھا ہے، جو ماضی میں قیدیوں کو دی جانے والی سہولتوں کو ختم کرنے کے بیانات دے چکے ہیں۔
یاد رہے کہ غزہ میں بھی خوراک کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنی رہی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے مطابق پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار