فوجی محاصرے میں سنتالیسویں سالگرہ مناتا ایران اور سائنس کا میدان
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، طبی تحقیق اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبے آج دنیا بھر میں ترقی کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور ایران بھی انہی عالمی رجحانات کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ان کوششوں کو غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایران کی سائنسی پیش رفت ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتی ہے، جو مشکلات کے باوجود علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو اپنی ترقی کا بنیادی ذریعہ بنا رہا ہے۔ اہل ایران یہ بات جان گئے ہیں کہ مستقبل انہی کا ہے، جو سائنس کے میدان کے شہسوار ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
آج کی دنیا سائنس کی دنیا ہے اور حکمرانی اسی ملک کی ہے، جو سائنس کی دنیا کا حکمران ہے۔ پچھلے چالیس سال میں گویا سائنس کو بھی پر لگ گئے ہیں، جو ترقی صدیوں میں ہوتی تھی، وہ مہینوں میں ہو رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب ایرانی انقلاب کی سنتالیسویں سالگرہ منا رہے ہیں اور چاروں طرف سے محاصرے میں گھر چکے ہیں تو ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ انہوں نے ان سنتالیس سالوں میں سائنس کے میدان میں کوئی کام بھی کیا ہے یا صرف نعرے لگائے گئے ہیں۔ ہم اس تحریر میں ایران کی سائنسی میدان میں ترقی کا جائزہ لیں گے۔ ایران میں مظاہرے شروع ہوئے تو خبر آئی کہ سٹارلنک نے انٹرنٹ دینا شروع کر دیا ہے۔ یہاں تک تو معمول کی خبر تھی، مگر حیران کر دینے والی خبر یہ تھی کہ ایرانیوں نے سٹار لنک کے سگنلز کو روک دیا ہے اور اس سے بھی آگے کہ جہاں جہاں ڈیوائسز موجود تھیں، ان کا بھی پتہ لگا لیا گیا، جس سے پورے کے پورے نیٹ ورک پکڑے گئے۔
یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں تھی۔ اس نے دنیا کے ماہرین کو ہلا کر رکھ دیا اور سائنسدان اس تلاش میں لگ گئے کہ ایران نے ایسا کس ٹیکنالوجی سے کیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ایران نے حالیہ برسوں میں سائنسی اور تکنیکی میدان میں جو پیش رفت کی ہے، وہ اس عمومی تاثر سے خاصی مختلف ہے، جو عالمی سیاست کے تناظر میں اس کے بارے میں پیش کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایران نے روسی سویوز راکٹ کے ذریعے تین مقامی طور پر تیار کردہ سیٹلائٹس پایا، ظفر-2 اور کوثر 1.
ان سیٹلائٹس کی تکنیکی نوعیت بھی ایران کے سائنسی ڈھانچے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ سیٹلائٹ میں جدید مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں شامل کی گئی ہیں، جو زمین سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا فوری اور خودکار تجزیہ ممکن بناتی ہیں۔ اس ڈیٹا کو شہری منصوبہ بندی، ماحولیاتی آلودگی کی نگرانی، جنگلات کے تحفظ اور آبی ذخائر کی صورتحال جانچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ظفر-2 سیٹلائٹ ایرانی جامعات کے محققین کی مشترکہ کاوش ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران میں اعلیٰ تعلیمی ادارے محض نظری تحقیق تک محدود نہیں بلکہ عملی سائنسی منصوبوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح کوثر 1.5 ایک نجی ایرانی کمپنی کا تیار کردہ ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ ہے، جو ایران میں ابھرتے ہوئے نجی سائنسی و تکنیکی شعبے کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ خلائی کامیابیاں دراصل ایران کی مجموعی سائنسی ترقی کا ایک حصہ ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں میں ایران نے نینو ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور بنیادی سائنسز کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ عالمی سائنسی اشاریوں کے مطابق ایران نینو ٹیکنالوجی میں تحقیق کرنے والے ممالک میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جہاں نینو میڈیسن، صنعتی مواد اور توانائی کے ذخیرے سے متعلق منصوبے جاری ہیں۔ یہی سائنسی تحقیق بعد ازاں عملی شکل اختیار کرکے کینسر کے علاج، ادویات کی بہتر ترسیل اور صنعتی پیداوار میں استعمال ہو رہی ہے، جو کسی بھی ترقی پذیر معاشرے کے لیے ایک مثبت علامت سمجھی جاتی ہے۔
طب کے شعبے میں بھی ایران نے قابلِ ذکر خود انحصاری حاصل کی ہے۔ اسٹیم سیل ریسرچ، اعضاء کی پیوندکاری اور پیچیدہ سرجریز کے میدان میں ایرانی ماہرین کی خدمات نہ صرف ملک کے اندر بلکہ خطے بھر میں پہچانی جاتی ہیں۔ ایران ان چند ممالک میں شامل ہے، جہاں دل، جگر اور گردوں کی پیوندکاری بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے، جبکہ کئی جدید ادویات مقامی سطح پر تیار کی جا رہی ہیں۔ کرونا وبا کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی، جب محدود وسائل اور دباؤ کے باوجود ایران نے اپنی ویکسین تیار کی اور مقامی پیداوار کے ذریعے صحت کے نظام کو سہارا دیا۔ یہ تمام مثالیں اس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ ایران کی سائنسی ترقی محض دعووں پر نہیں بلکہ عملی نتائج پر مبنی ہے۔
مجموعی طور پر پایا، ظفر-2 اور کوثر 1.5 جیسے سیٹلائٹس ایران کی اس طویل المدتی حکمتِ عملی کی علامت ہیں، جس کا مقصد سائنسی خود انحصاری، شہری سہولتوں میں بہتری اور تحقیق کو عملی فوائد سے جوڑنا ہے۔ اس پیش رفت کے باوجود ایران کی سائنسی کامیابیوں کو اکثر خطرے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، حالانکہ اس کے بیشتر منصوبے شہری، تحقیقی اور ترقیاتی نوعیت کے ہیں۔ خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، طبی تحقیق اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبے آج دنیا بھر میں ترقی کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور ایران بھی انہی عالمی رجحانات کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ان کوششوں کو غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایران کی سائنسی پیش رفت ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتی ہے، جو مشکلات کے باوجود علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو اپنی ترقی کا بنیادی ذریعہ بنا رہا ہے۔ اہل ایران یہ بات جان گئے ہیں کہ مستقبل انہی کا ہے، جو سائنس کے میدان کے شہسوار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کی سائنسی ہے کہ ایران میں ایران تحقیق اور کے باوجود ایران نے کے میدان گئے ہیں کرتی ہے ترقی کا پیش رفت رہا ہے
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔