اسلام ٹائمز: خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، طبی تحقیق اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبے آج دنیا بھر میں ترقی کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور ایران بھی انہی عالمی رجحانات کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ان کوششوں کو غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایران کی سائنسی پیش رفت ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتی ہے، جو مشکلات کے باوجود علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو اپنی ترقی کا بنیادی ذریعہ بنا رہا ہے۔ اہل ایران یہ بات جان گئے ہیں کہ مستقبل انہی کا ہے، جو سائنس کے میدان کے شہسوار ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

آج کی دنیا سائنس کی دنیا ہے اور حکمرانی اسی ملک کی ہے، جو سائنس کی دنیا کا حکمران ہے۔ پچھلے چالیس سال میں گویا سائنس کو بھی پر لگ گئے ہیں، جو ترقی صدیوں میں ہوتی تھی، وہ مہینوں میں ہو رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب ایرانی انقلاب کی سنتالیسویں سالگرہ منا رہے ہیں اور چاروں طرف سے محاصرے میں گھر چکے ہیں تو ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ انہوں نے ان سنتالیس سالوں میں سائنس کے میدان میں کوئی کام بھی کیا ہے یا صرف نعرے لگائے گئے ہیں۔ ہم اس تحریر میں ایران کی سائنسی میدان میں ترقی کا جائزہ لیں گے۔ ایران میں مظاہرے شروع ہوئے تو خبر آئی کہ سٹارلنک نے انٹرنٹ دینا شروع کر دیا ہے۔ یہاں تک تو معمول کی خبر تھی، مگر حیران کر دینے والی خبر یہ تھی کہ ایرانیوں نے سٹار لنک کے سگنلز کو روک دیا ہے اور  اس سے بھی آگے کہ جہاں جہاں ڈیوائسز موجود تھیں، ان کا بھی پتہ لگا لیا گیا، جس سے پورے کے پورے نیٹ ورک پکڑے گئے۔

یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں تھی۔ اس نے دنیا کے ماہرین کو ہلا کر رکھ دیا اور سائنسدان اس تلاش میں لگ گئے کہ ایران نے ایسا کس ٹیکنالوجی سے کیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ایران نے حالیہ برسوں میں سائنسی اور تکنیکی میدان میں جو پیش رفت کی ہے، وہ اس عمومی تاثر سے خاصی مختلف ہے، جو عالمی سیاست کے تناظر میں اس کے بارے میں پیش کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایران نے روسی سویوز راکٹ کے ذریعے تین مقامی طور پر تیار کردہ سیٹلائٹس پایا، ظفر-2 اور کوثر 1.

5 کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے، جو ایرانی خلائی پروگرام کے لیے اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ان سیٹلائٹس کا مقصد مکمل طور پر شہری اور تحقیقی نوعیت کا ہے، جن میں ماحولیاتی نگرانی، آبی وسائل کا بہتر انتظام، زرعی منصوبہ بندی، موسمیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ اور قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں میں مدد شامل ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ایران اپنی سائنسی صلاحیتوں کو براہِ راست عوامی ضروریات اور ترقیاتی اہداف سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان سیٹلائٹس کی تکنیکی نوعیت بھی ایران کے سائنسی ڈھانچے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ سیٹلائٹ میں جدید مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں شامل کی گئی ہیں، جو زمین سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا فوری اور خودکار تجزیہ ممکن بناتی ہیں۔ اس ڈیٹا کو شہری منصوبہ بندی، ماحولیاتی آلودگی کی نگرانی، جنگلات کے تحفظ اور آبی ذخائر کی صورتحال جانچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ظفر-2 سیٹلائٹ ایرانی جامعات کے محققین کی مشترکہ کاوش ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران میں اعلیٰ تعلیمی ادارے محض نظری تحقیق تک محدود نہیں بلکہ عملی سائنسی منصوبوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح کوثر 1.5 ایک نجی ایرانی کمپنی کا تیار کردہ ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ ہے، جو ایران میں ابھرتے ہوئے نجی سائنسی و تکنیکی شعبے کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ خلائی کامیابیاں دراصل ایران کی مجموعی سائنسی ترقی کا ایک حصہ ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں میں ایران نے نینو ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور بنیادی سائنسز کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ عالمی سائنسی اشاریوں کے مطابق ایران نینو ٹیکنالوجی میں تحقیق کرنے والے ممالک میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جہاں نینو میڈیسن، صنعتی مواد اور توانائی کے ذخیرے سے متعلق منصوبے جاری ہیں۔ یہی سائنسی تحقیق بعد ازاں عملی شکل اختیار کرکے کینسر کے علاج، ادویات کی بہتر ترسیل اور صنعتی پیداوار میں استعمال ہو رہی ہے، جو کسی بھی ترقی پذیر معاشرے کے لیے ایک مثبت علامت سمجھی جاتی ہے۔

طب کے شعبے میں بھی ایران نے قابلِ ذکر خود انحصاری حاصل کی ہے۔ اسٹیم سیل ریسرچ، اعضاء کی پیوندکاری اور پیچیدہ سرجریز کے میدان میں ایرانی ماہرین کی خدمات نہ صرف ملک کے اندر بلکہ خطے بھر میں پہچانی جاتی ہیں۔ ایران ان چند ممالک میں شامل ہے، جہاں دل، جگر اور گردوں کی پیوندکاری بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے، جبکہ کئی جدید ادویات مقامی سطح پر تیار کی جا رہی ہیں۔ کرونا وبا کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی، جب محدود وسائل اور دباؤ کے باوجود ایران نے اپنی ویکسین تیار کی اور مقامی پیداوار کے ذریعے صحت کے نظام کو سہارا دیا۔ یہ تمام مثالیں اس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ ایران کی سائنسی ترقی محض دعووں پر نہیں بلکہ عملی نتائج پر مبنی ہے۔

مجموعی طور پر پایا، ظفر-2 اور کوثر 1.5 جیسے سیٹلائٹس ایران کی اس طویل المدتی حکمتِ عملی کی علامت ہیں، جس کا مقصد سائنسی خود انحصاری، شہری سہولتوں میں بہتری اور تحقیق کو عملی فوائد سے جوڑنا ہے۔ اس پیش رفت کے باوجود ایران کی سائنسی کامیابیوں کو اکثر خطرے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، حالانکہ اس کے بیشتر منصوبے شہری، تحقیقی اور ترقیاتی نوعیت کے ہیں۔ خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، طبی تحقیق اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبے آج دنیا بھر میں ترقی کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور ایران بھی انہی عالمی رجحانات کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ان کوششوں کو غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایران کی سائنسی پیش رفت ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتی ہے، جو مشکلات کے باوجود علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو اپنی ترقی کا بنیادی ذریعہ بنا رہا ہے۔ اہل ایران یہ بات جان گئے ہیں کہ مستقبل انہی کا ہے، جو سائنس کے میدان کے شہسوار ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کی سائنسی ہے کہ ایران میں ایران تحقیق اور کے باوجود ایران نے کے میدان گئے ہیں کرتی ہے ترقی کا پیش رفت رہا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان