فلوریڈا میں قتل کے مجرم کو زہریلا انجکشن لگا کر سزائے موت دیدی گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
میامی (ویب ڈیسک) امریکی ریاست فلوریڈا میں 64 سالہ رونالڈ ہیتھ کو سیلز مین کے قتل کیس میں جرم ثابت ہونے پر مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رونالڈ ہیتھ، جو اس سے قبل 16 سال کی عمر میں کئے گئے ایک اور قتل کے جرم میں 10 سال قید کاٹ چکا تھا کو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 12 منٹ پر رائیفورڈ کی ریاستی جیل میں سزائے موت دی گئی۔
فلوریڈا کے محکمہ اصلاحات نے ایک بیان میں کہاکہ رونالڈ ہیتھ کی سزا پر شام 6 بج کر 12 منٹ ایسٹرن سٹینڈرڈ ٹائم پر عملدرآمد کیا گیا تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ رونالڈ ہیتھ کو 1989ء میں اپنے کم عمر بھائی کینتھ ہیتھ کے ساتھ ڈکیتی کے دوران مائیکل شیریڈن کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، کینتھ ہیتھ نے قتل کا اعتراف کیا اور اپنے بھائی کے خلاف گواہی دی جس کے بعد اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق جیوری نے قرار دیا کہ رونالڈ ہیتھ قتل اور ڈکیتی میں مرکزی کردار تھا اور اس نے اپنے کمزور اور کم عمر بھائی کینتھ پر نمایاں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔
رونالڈ ہیتھ نوعمری میں کئے گئے ایک قتل کے جرم میں 30 سالہ سزا میں سے 10 سال قید کاٹنے کے بعد رہا ہوا اور رہائی کے چند ماہ بعد ہی اس نے سیلزمین مائیکل شیریڈن کو قتل کیا۔یہ رواں سال امریکا میں سزائے موت پر عمل درآمد کا دوسرا واقعہ ہے۔
یاد رہے کہ امریکا میں گزشتہ سال مجموعی طور پر 47 سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا جو 2009ء کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے جب 52 قیدیوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز