اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کے عالمی کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025ء میں پاکستان کا اسکور 28؍ رہا، جو 182؍ ممالک کے اوسط اسکور 42؍ سے بہت کم ہے۔ یہ اسکور 2018ء کے مقابلے میں بھی کم ہے، جب پاکستان نے اپنی تاریخ کا بہترین اسکور 33؍ حاصل کیا تھا۔ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کی 2025ء کی رپورٹ میں کہیں بھی پاکستان کی جانب سے گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کی قابلِ تحسین کوششوں کی کوئی ستائش نہیں کی گئی۔ یہ رائے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر کے چیئرمین جسٹس (ر) ضیاء پرویز نے منگل کو جاری کردہ پریس ریلیز میں ظاہر کی۔ تاہم، رابطہ کرنے پر ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے تصدیق کی کہ یہ ریمارکس ادارے کی 2025ء کی عالمی رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔ 2025ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اسکور 2024ء میں 27؍ تھا جو 2025ء میں بڑھ کر 28؍ ہو گیا، جبکہ 2024ء کی درجہ بندی میں پاکستان 135ویں نمبر سے 2025ء میں 136ویں نمبر پر جا پہنچا۔ یعنی اسکور میں ایک پوائنٹ بہتری آئی، لیکن درجہ بندی ایک درجہ نیچے چلی گئی۔ تاہم، جن ممالک کا جائزہ لیا گیا ان کی تعداد 2024ء میں 180 تھی جو 2025 میں 182 ہو گئی۔ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر نے درجہ بندی میں کمی کو بہتری کے طور پر تعبیر کیا۔ جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی نے دی نیوز کو بتایا کہ ادارہ پاکستان کی پوزیشن کو نیچے سے شمار کرتا ہے، جس کے مطابق 2025ء میں پاکستان 46واں سب سے زیادہ بدعنوان ملک ہے، جبکہ 2024ء میں 45واں سب سے زیادہ بدعنوان ملک تھا۔ تاہم، ادارے نے اپنی پریس ریلیز میں عالمی رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں منفی حوالہ شامل کرنے سے گریز کیا، جس میں کہا گیا ہے: ’’2012ء سے دنیا بھر کے نان کانفلکٹ زونز (غیر جنگی علاقہ جات) میں 829؍ صحافی قتل کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 90؍ فیصد سے زائد ایسے ممالک میں قتل ہوئے جہاں کرپشن پرسیپشن انڈیکس اسکور 50؍ سے کم تھا، ایسے ممالک میں برازیل، بھارت، میکسیکو، پاکستان اور عراق شامل ہیں، جو بدعنوانی پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کیلئے خصوصاً خطرناک ہیں۔‘‘ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’۔۔جبکہ 31؍ ممالک نے 2012ء سے مختلف اقدامات سے اب تک اپنی بدعنوانی کی سطح میں نمایاں کمی کی ہے، باقی ممالک اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں، جو یا تو جمود کا شکار رہے یا صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ عالمی اوسط ایک نئی کم ترین سطح 42؍ تک گر چکا ہے، جبکہ دو تہائی سے زائد ممالک کا اسکور 50؍ سے کم ہے۔ اس کی قیمت ان ممالک کے عوام کو چکانا پڑ رہی ہے کیونکہ بدعنوانی کے باعث اسپتالوں کو مناسب فنڈنگ نہیں ملتی، سیلابی دفاعی منصوبے تعمیر نہیں ہوتے، اور نوجوانوں کی امیدیں اور خواب ٹوٹ رہے ہیں۔‘‘ پاکستان کا اسکور 2025ء کی رپورٹ میں 28؍ رہا، جو 182؍ ممالک کے اوسط اسکور سے بہت کم ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ریکارڈ کے مطابق کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کی بہترین کارکردگی 2018ء میں رہی، جب وہ نیچے سے 64ویں نمبر پر اور مجموعی طور پر 180؍ ممالک میں سے 117ویں نمبر پر تھا۔ اُس سال پاکستان کا اسکور اسکور 33؍ تھا۔ 2019ء میں پاکستان کا اسکور 33؍ سے کم ہو کر 32؍ رہ گیا اور درجہ بندی 180؍ ممالک میں سے 120ویں نمبر پر رہی (نیچے سے 61 واں)۔ 2020ء میں اسکور 32؍ سے کم ہو کر 31؍ ہو گیا اور پاکستان 124ویں نمبر پر رہا (نیچے سے 57 واں)۔ 2021ء میں اسکور مزید کم ہو کر 28؍ رہ گیا اور پاکستان 140ویں نمبر پر رہا (نیچے سے 41واں)۔ 2022ء میں اسکور 28؍ سے کم ہو کر 27؍ ہو گیا اور پاکستان دوبارہ 140ویں نمبر پر رہا (نیچے سے 27واں)۔ 2023ء کی رپورٹ میں بہتری دکھائی گئی اور پاکستان کا اسکور بڑھ کر 29؍ ہو گیا۔ تاہم، 2024ء میں اسکور دوبارہ کم ہو کر 27؍ رہ گیا۔ 2025ء کی رپورٹ میں اسکور 28؍ ہے، جو 2024ء کے مقابلے میں ایک پوائنٹ زیادہ ہے، لیکن 2018ء کے بہترین اسکور 33؍ سے اب بھی پانچ پوائنٹ کم ہے۔

انصارعباسی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا اسکور 2025ء کی رپورٹ کی رپورٹ میں میں پاکستان اور پاکستان پاکستان کی میں اسکور ممالک میں کم ہو کر نیچے سے اسکور 33 گیا اور ہو گیا

پڑھیں:

مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

پشاور:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق