سٹی42: لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں سولر سسٹم کنکشنز دینے کی خودساختہ پابندی تاحال برقرار ہے۔ نیپرا کی جانب سے نیٹ بلنگ کے تحت ریگولیشنز کی منظوری اور پالیسی جاری ہونے کے باوجود کنکشنز پر کام شروع نہیں ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق لیسکو نے 16 دسمبر کے بعد ہر قسم کے دستاویزات کے اجراء پر پابندی لگا رکھی ہے اور اس کے بعد سے نیپرا کو لائسنس کے لیے کوئی درخواست بھی نہیں بھیجی گئی۔ اس وجہ سے لیسکو کے ساتھ معاہدہ کرنے والے صارفین کو کنکشن نہیں دیئے جا سکے۔

میئر لندن بھی لاہور بسنت کے دیوانے نکلے

نیپرا کی جانب سے لائسنس جاری ہونے کے باوجود کنکشن روک دیے گئے جبکہ صارفین نے میٹرز سمیت دیگر املاک کے ڈیمانڈ نوٹس بھی ادا کر دیے ہیں۔ تاہم لیسکو نے ڈیمانڈ نوٹس کی ادائیگی کے باوجود میٹریل کا اجراء روک رکھا ہے۔

کچھ دفاتر میں میٹریل کا اجراء ہونے کے باوجود انسٹالیشن روک دی گئی۔ لیسکو کے ڈائریکٹوریٹ آف میراڈ اور آپریشن سرکلز میں سینکڑوں کنکشنز زیر التواء ہیں۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، ایم اینڈ ٹی سمیت دیگر دفاتر میں سولر کنکشنز پر پابندی برقرار ہے۔

 بیع زبانی انتقال پر  بورڈ آف ریونیو نے پابندی میں نرمی کردی

نیپرا نے نیٹ بلنگ کے نام سے ریگولیشنز کی منظوری دے رکھی ہے لیکن عملی طور پر کنکشنز نہیں لگائے جا رہے۔ خودساختہ پابندی کے دوران ریگولیشنز کو بہانہ بنا کر کنکشنز روک لیے گئے تھے اور اب ریگولیشنز کی منظوری کے بعد وزارت پاور ڈویژن کی منظوری سے کنکشنز کو مشروط کر دیا گیا ہے۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 کی منظوری کے باوجود

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی