لاہور سے کراچی جانے والی ٹرین کی 7 بوگیاں انجن سے الگ ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سندھ میں گھوٹکی کے قریب لاہور سے کراچی جانے والی پاک بزنس ٹرین کی 7 بوگیاں انجن سے الگ ہو گئیں۔ریلوے ذرائع کے مطابق لاہور سے کراچی جاتے ہوئے ٹرین کی بوگیاں الگ ہوگئیں اور انجن بوگیوں کو چھوڑ کر کئی کلو میٹر آگے نکل گیا۔ واقعہ محمد پور کے قریب پیش آیا، جہاں ٹرین دو حصوں میں تقسیم ہوئی، ٹرین کو بوگیوں کو الگ ہوئے 4 گھنٹے گزر گئے لیکن امدادی ٹیم نہ پہنچ سکی۔ حکام نے کہا ہے کہ ٹرین کا کپلر نکلنے کے باعث بوگیاں علیحدہ ہوگئیں، انجن واپس آرہا ہے، کپلر لگا کر ٹرین جلد روانہ کردی جائے گی۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد ٹرین روانہ کی جائے گی اور مرمتی ٹیم کام کے لیے روانہ کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔