پاکستانی طلبہ کے لیے مکمل فنڈڈ ریسرچ انٹرن شپ کا نادر موقع
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سعودی عرب کی معروف کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) نے سال 2026 کے لیے اپنے وزٹنگ اسٹوڈنٹ ریسرچ پروگرام کے تحت درخواستیں طلب کرلی ہیں، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے طلبہ کو شرکت کا موقع دیا جارہا ہے۔
یہ پروگرام انڈرگریجویٹ اور ماسٹرز سطح کے طلبہ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ وہ عالمی معیار کے تحقیقی ماحول میں عملی تجربہ حاصل کرسکیں۔
اس انٹرنشپ کی خاص بات مکمل مالی معاونت ہے جس کے تحت منتخب امیدواروں کو ہر ماہ ایک ہزار امریکی ڈالر وظیفہ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ آنے جانے کا ہوائی ٹکٹ، کیمپس میں رہائش، طبی انشورنس اور ویزا سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
شرکا کو جدید ترین لیبارٹریز اور تحقیقی وسائل تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی، جہاں وہ ممتاز فیکلٹی کی نگرانی میں جدید سائنسی منصوبوں پر کام کریں گے۔ پروگرام کی مدت تین سے چھ ماہ تک ہوگی، جس کے دوران طلبہ کو عملی تحقیق کے ساتھ عالمی تعلیمی معیار سے ہم آہنگ ہونے کا موقع ملے گا۔
یہ پروگرام سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، جن میں کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ کی مختلف شاخیں، توانائی کے مطالعات، ماحولیاتی سائنس اور حیاتیاتی علوم شامل ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نوجوان محققین نہ صرف اپنی مہارتوں میں اضافہ کرسکتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر روابط بھی استوار کرسکتے ہیں۔
اہلیت کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار انڈرگریجویٹ کے کم از کم تیسرے سال میں ہوں یا ماسٹرز پروگرام میں زیرِ تعلیم ہوں، جبکہ کم از کم جی پی اے 3.
درخواستیں آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جاسکتی ہیں اور سال بھر قبول کی جاتی ہیں، جس سے طلبہ کو اپنے تعلیمی شیڈول کے مطابق اپلائی کرنے کی سہولت ملتی ہے۔ کامیاب امیدواروں کو چند ہفتوں میں اطلاع دی جاتی ہے۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ یہ پروگرام پاکستانی طلبہ کے لیے تحقیق اور کیریئر سازی کا ایک سنہری موقع قرار دیا جارہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔