غزہ پر مبنی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘، ’یہ صرف کہانی نہیں تاریخ ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
تیونس کی معروف ہدایتکارہ کاوتر بن ہانیا نے اپنی فلم The Voice of Hind Rajab ’دی وائس آف ہند رجب‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ فلم 6 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی کہانی کو منظرِ عام پر لانے اور ہمدردی پیدا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، نہ کہ کسی تحقیق یا ذمہ داری کے تعین کے لیے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فلم حقیقی واقعات پر مبنی ہے اور اس لیے بنائی جاتی ہے تاکہ بے بسی کا سامنا کیا جا سکے اور ان کی کہانی کو منظرِ عام پر لایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بریڈ پٹ، واکین فینکس اور رونی مارا کی غزہ پر مبنی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ میں شمولیت
بن ہانیا نے بتایا کہ انہوں نے یہ پروجیکٹ اس وقت شروع کیا جب انہوں نے 2024 میں غزہ شہر میں پھنسی ہند کی ہنگامی کال ریکارڈنگ سنی جس میں بچی خوفزدہ انداز میں مدد کی اپیل کر رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں غصے، افسوس اور بے بسی میں تھی۔ میں نے سوچا کہ میں کیا کر سکتی ہوں۔ میں ایک فلم ساز ہوں، اس لیے میں فلم بناتی ہوں‘۔
فلم میں ریڈ کریسنٹ کال سینٹر کے کارکنوں کے نقطۂ نظر سے کہانی بیان کی گئی ہے اور ہند کی آخری کالز کی اصل آڈیو کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا ’ٹائنی اسپیس‘ پروجیکٹ کیا ہے؟
یہ فلم وینس فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی جہاں اسے 23 منٹ کی طویل اسٹینڈنگ اوویشن ملی اور اسے گولڈن گلوب کے لیے بہترین غیر ملکی فلم کی نامزدگی اور آسکر کی شارٹ لسٹ میں جگہ ملی۔
بن ہانیا کا کہنا ہے کہ یہ فلم ہند رجب کو یاد رکھنے اور ان کی کہانی کو فراموش نہ کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ ’یہ صرف ایک کہانی نہیں، یہ تاریخ ہے جو بن رہی ہے‘۔
واضح رہے کہ ہند اپنے انکل، آنٹی اور تین کزنز کے ساتھ ایک محفوظ مقام کی طرف جا رہی تھی کہ اسرائیلی ٹینک نے ان کی گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ جس میں کئی رشتہ دار شہید ہو گئے۔ بعد ازاں ہند نے فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے رضا کاروں سے رابطہ کیا جو ایمبولینس کو پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایوارڈ یافتہ فلسطینی صحافی بسان عودہ کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بحال
فون پر ہند کہہ رہی تھی کہ اسے گولیوں اور اندھیرے سے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ یہ کال ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ وہ روتی رہی، ڈرتی رہی اور مسلسل کہتی رہی کہ اسے وہاں سے نکال لیا جائے۔
جو امدادی کارکن ہند کو بچانے گئے انہیں بھی اسرائیل نے مار ڈالا۔ ہند کے تمام رشتہ دار فائرنگ میں جان سے گئے اور آخرکار وہ ننھی بچی بھی دم توڑ گئی۔ دس دن بعد امدادی ادارے اس کی لاش تک پہنچ سکے۔ کچھ فاصلے پر انہی امدادی کارکنوں کی لاشیں بھی ملیں جو اسے بچانے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسکر ایوارڈ دی وائس آف ہند رجب دی وائس آف ہند رجب آسکر فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسکر ایوارڈ دی وائس آف ہند رجب دی وائس آف ہند رجب ا سکر فلسطین دی وائس آف ہند رجب کے لیے
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین