Jasarat News:
2026-07-24@00:57:19 GMT

چین کا چاند مشن:  ہدف 2030ء  کے لیے اہم تجربہ کامیاب

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ: چین نے 2030 تک انسانوں کو چاند پر بھیجنے کے اپنے ہدف کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے مینگ زو کریو کیرئیر کا اہم حفاظتی تجربہ کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔

اس ٹیسٹ کو خلائی پروگرام میں پیش رفت کا نمایاں مرحلہ قرار دیا جارہا ہے۔

یہ اسکیپ ٹیسٹ اس مقصد کے لیے ترتیب دیا گیا تھا کہ اگر راکٹ کی روانگی کے دوران کوئی خرابی پیدا ہو تو خلا باز کس حد تک محفوظ انداز میں زمین پر واپس آسکتے ہیں۔ تجربے کے دوران کیپسول لانچ کے فوراً بعد راکٹ سے الگ ہوا اور کنٹرول طریقے سے سمندر میں اترا۔ اس مرحلے میں کسی انسان کو شامل نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ چینی خلائی حکام اس سے قبل گراؤنڈ لیول سیفٹی ٹیسٹ بھی مکمل کرچکے ہیں، جبکہ لانگ مارچ 10 راکٹ کے propulsion سسٹم کے ابتدائی تجربات بھی انجام دیے جاچکے ہیں۔

تقریباً 93 میٹر بلند یہ راکٹ موجودہ لانگ مارچ 5 کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ گنجائش رکھتا ہے اور اسے چاند مشن کے لیے مرکزی کردار دیا گیا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ راکٹ زمین کے نچلے مدار میں 70 ٹن اور چاند کی سمت 27 ٹن وزن لے جانے کی صلاحیت رکھے گا۔

چینی حکام کے مطابق انسان بردار دو الگ مشنز کے ذریعے خلا بازوں کو چاند تک پہنچانے کا منصوبہ زیرِ عمل ہے۔ حالیہ کامیاب تجربہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جو 2030 کے ہدف کو عملی جامہ پہنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین