Jasarat News:
2026-06-02@23:35:04 GMT

چین کی سینئر منیجر نے پُرآسائش نوکری چھوڑ کر جزیرہ چُن لیا

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

چین کی سینئر منیجر نے پُرآسائش نوکری چھوڑ کر جزیرہ چُن لیا

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ: چین میں ایک خاتون نے کارپوریٹ دنیا کی چمک دمک کو خیرباد کہہ کر ایسی زندگی کا انتخاب کیا جس کا تصور بھی اکثر لوگ نہیں کرتے۔

بیجنگ کی ایک بڑی کمپنی میں 2 دہائیوں تک سینئر منیجر کے طور پر خدمات انجام دینے والی یو لی اب ایک غیر آباد جزیرے پر ملازمت کررہی ہیں، جہاں نہ شہری شور ہے اور نہ ہی روزمرہ کی بھاگ دوڑ۔

ایسٹ چائنا سی میں واقع ڈونگ زائی نامی جزیرے پر ان کی نئی ذمہ داری فش فیڈنگ بیس میں کوالٹی انسپکٹر کی ہے۔ وہ مچھلیوں کو خوراک فراہم کرنے والے آلات کی جانچ کرتی ہیں، پانی کا درجہ حرارت اور سمندری لہروں کی رفتار نوٹ کرتی ہیں اور آبی حیات کی نشوونما کی نگرانی کرتی ہیں۔

اس کام کے عوض انہیں ماہانہ تقریباً 3 ہزار یوآن معاوضہ ملتا ہے، جو ان کی سابقہ تنخواہ کے مقابلے میں بہت کم ہے، مگر وہ اسے ذہنی سکون کی قیمت سمجھتی ہیں۔

یو لی کے مطابق بیجنگ میں ان کی زندگی شدید دباؤ کا شکار تھی۔ سال کے بیشتر دن بیرونِ شہر کاروباری دوروں میں گزرتے تھے اور روزانہ کئی گھنٹے صرف دفتر آنے جانے میں صرف ہوجاتے تھے۔ مسلسل مصروفیات نے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالا، جس کے بعد انہوں نے خود سے سوال کیا کہ آیا یہی زندگی وہ گزارنا چاہتی ہیں۔

اسی سوچ کے دوران انہیں صوبہ ژی جیانگ میں واقع اس جزیرے کی ملازمت کا اشتہار ملا اور انہوں نے فوراً درخواست دے دی۔ دسمبر 2025 سے وہ جزیرے پر مقیم ہیں جہاں قریبی آبادی تقریباً 40 کلومیٹر دور ہے۔

ابتدا میں تنہائی اور سخت موسمی حالات نے مشکلات پیدا کیں، حتیٰ کہ ایک بار طوفانی ہواؤں کے باعث کھانا پکانا بھی ممکن نہ رہا۔ جزیرے پر چوہوں کی موجودگی بھی ایک چیلنج ہے۔

اس کے باوجود یو لی کا کہنا ہے کہ اب انہیں مطالعہ، سمندر کے کنارے وقت گزارنے اور غروبِ آفتاب دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے نزدیک کم آمدنی کے باوجود پُرسکون زندگی ہی اصل کامیابی ہے، اور یہی فیصلہ انہیں حقیقی خوشی فراہم کررہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن