جوڈیشل کمیشن 14 فروری کو گل پلازا کا دورہ کرے گا، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
جوڈیشل کمیشن 14 فروری کو گل پلازا کا دورہ کرے گا۔
ذرائع کے مطابق جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن حکومتی اداروں کو تحقیقات کے لیے طلب کرنے سے قبل عمارت کا خود جائزہ لے گا۔
آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازا کا پہلا مالک کون؟ جیو نیوز نے دستاویز حاصل کرلیں۔
کمیشن آتشزدگی کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن، موجود راستوں اور دیگر انتظامات کا جائزہ لےگا۔
کمیشن گل پلازا کا دورہ کرنے کے بعد متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کر کے طلب کرے گا۔
ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کے دورے کے بعد فائر بریگیڈ، کے ایم سی، ریسکیو ادارے، ایس بی سی اے اور دیگر اداروں کو طلب کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گل پلازا کا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔