امریکا کا پہلا ڈیمینشیا ولیج 2027 میں کھلنے کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
65 سال سے زائد عمر کے تقریباً 11 فیصد وسکونسن کے شہری الزائمر کے مرض میں مبتلا ہیں، جو ڈیمینشیا کی سب سے عام قسم ہے۔
امریکی ریاست وسکونسن میں ملک کا پہلا ڈیمینشیا ولیج قائم کیا جارہا ہے، جسے ممکنہ طور پر ستمبر 2027 تک کھول دیا جائے گا۔ اس ولیج میں قیام کرنے والے ڈیمینشیا کے مریضوں کو روایتی گھر میں موجود تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
40 ملین ڈالرز سے تیار ہونے والے اس پروجیکٹ کا مقصد یادداشت کی دیکھ بھال کے روایتی نظام کو تبدیل کرتے ہوئے ڈیمینشیا کے مریضوں کے لیے ایک محفوظ اور کمیونٹی طرز کا ماحول فراہم کرنا ہے۔
یہ منصوبہ وسکونسن کی ہاسپِس کیئر تنظیم ایگریس (Agrace) کی جانب سے میڈیسن کیمپس میں شروع کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مریضوں کو 8 افراد کے چھوٹے گروپس کی صورت میں مشترکہ گھروں میں رکھا جائے گا۔ طبی عملہ روزمرہ سرگرمیوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت موجود ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نیا ڈیمینشیا ولیج نیدرلینڈز کے ہوگے ویک (Hogeweyk) ماڈل کی طرز پر قائم کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ڈیمینشیا کے مریضوں کو حتیٰ الامکان معمول کی زندگی گزارنے میں مدد دینا ہے۔ تاہم، ایگریس کی جانب سے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس ڈیمینشیا ولیج کے مریضوں کے اہلِ خانہ کو کتنی فیس ادا کرنا ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈیمینشیا ولیج کے مریضوں
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔