Express News:
2026-06-02@22:05:07 GMT

پاکستان میں پہلا سرکاری آٹزم سینٹر قائم

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلا سرکاری آٹزم سینٹرقائم ہونے پر آٹسٹک بچوں اوران کے والدین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ایک سال پہلے یہاں خالی زمین تھی آج اللہ کے فضل و کرم سے پہلا آٹزم اسکول بنا دیکھ کر دل خوشی سرشار ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق مریم نوازشریف کا کہنا تھا کہ عالمی معیار کے مطابق آٹزم سینٹر میں ایک ہی چھت تلے آٹسٹک بچوں کے علاج کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔ پاکستان ہی نہیں آٹسٹک بچوں کیلئے دنیا بھر میں شاید ایک ہی چھت تلے ایسی سہولتیں میسر نہیں ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلا سرکاری آٹزم سینٹرقائم ہونے پر آٹسٹک بچوں اوران کے والدین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ صوبائی معاون خصوصی ثانیہ عاشق نے آٹسٹک اسکول پراجیکٹ کو اس طرح لیڈ کیا اوردلچسپی لی قابل تحسین ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب بھر میں اسپیشل بچوں کیلئے اسپیشل قسم کی 70بسیں فراہم کررہے ہیں۔ مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کیقیام کے کارخیرر میں حصہ لینے والوں کو شاباش دیتی ہوں۔ یہ سفر رکنا نہیں چاہیے۔

مریم نوازشریف نے مزید کہا کہ لوگوں کی مشکلات میں آسانی میرے لئے خوشیوں کا باعث بناتی ہے۔ محمد نوازشریف بھی مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم  کے قیام پر خوش ہیں۔

محمد نوازشریف نے کہاکہ پاکستان میں آٹزم کے علاج کیلئے اتنا بڑا ادارہ بنے پر بہت خوشی ہے۔محمد نوازشریف نے آٹسٹک بچو ں کے والدین کو مبارکباد دی اورحوصلہ بھی دیا کہ ریاست مشکل میں ان کے ساتھ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں نوازشریف نے آٹسٹک بچوں مریم نواز

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت