اسلام آباد: سپریم کورٹ میں دوران سماعت فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی جیل میں صحت اور سہولیات کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان نے جیل میں اپنی طبی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آنکھوں کے مسئلے کے فوری حل کے لیے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی کی درخواست کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو سال چار ماہ سے قید میں رہنے کے دوران عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور دھندلا پن بڑھتا گیا۔ انہیں بلڈ کلاٹ ہونے کی اطلاع بھی ملی، جس کے سبب وہ تشویش میں مبتلا ہیں۔ ملاقات کے دوران ان کی آنکھوں سے مسلسل پانی بہتا رہا، جسے وہ ٹشو سے صاف کرتے رہے۔

اگرچہ عمران خان نے جیل میں سیکیورٹی اور فراہم کردہ خوراک پر اطمینان ظاہر کیا، طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی ٹیم ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف یا کسی ماہر آنکھوں کے ڈاکٹر کے ذریعے فوری معائنہ کروانے کی درخواست کی۔

رپورٹ میں جیل کے سیل میں مچھر اور کیڑوں کی موجودگی کے فوری اقدامات کی ضرورت اور خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے ریفریجریٹر فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان روزانہ ناشتہ 9:45 پر کرتے ہیں، ایک گھنٹے تک قرآن پڑھتے ہیں اور محدود ورزش کرتے ہیں۔ ناشتے میں کافی، دلیہ اور کھجوریں شامل ہیں، اور ہفتے میں مختلف دنوں کے لیے گوشت، چکن یا دال و سینڈوچ دستیاب ہوتا ہے۔ وہ رات کو مکمل کھانا نہیں کھاتے، پھل اور دودھ لیتے ہیں۔

جیل میں انہیں مشقتی، ہیٹر اور روم کولر دستیاب ہیں، اور گرمیوں میں فوڈ پوائزننگ کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے۔ ملاقات وکلا اور اہل خانہ کے ساتھ محدود اور وقتاً فوقتاً ہوتی ہے۔ ان کے سیل میں روشنی، ہوا اور تقریباً 100 کتابیں دستیاب ہیں، جبکہ دائیں آنکھ کی تقریباً 15 فیصد کام کر رہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریاستی تحویل میں موجود قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات دی جائیں، جبکہ اٹارنی جنرل نے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی یقین دہانی کرائی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ یہ اقدامات 16 فروری سے قبل مکمل کیے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل آنکھوں کے جیل میں

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے