عمران خان کو درپیش آنکھوں کے مسائل اور جیل میں حالات، فرینڈف کورٹ کی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں دوران سماعت فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی جیل میں صحت اور سہولیات کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے جیل میں اپنی طبی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آنکھوں کے مسئلے کے فوری حل کے لیے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی کی درخواست کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو سال چار ماہ سے قید میں رہنے کے دوران عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور دھندلا پن بڑھتا گیا۔ انہیں بلڈ کلاٹ ہونے کی اطلاع بھی ملی، جس کے سبب وہ تشویش میں مبتلا ہیں۔ ملاقات کے دوران ان کی آنکھوں سے مسلسل پانی بہتا رہا، جسے وہ ٹشو سے صاف کرتے رہے۔
اگرچہ عمران خان نے جیل میں سیکیورٹی اور فراہم کردہ خوراک پر اطمینان ظاہر کیا، طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی ٹیم ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف یا کسی ماہر آنکھوں کے ڈاکٹر کے ذریعے فوری معائنہ کروانے کی درخواست کی۔
رپورٹ میں جیل کے سیل میں مچھر اور کیڑوں کی موجودگی کے فوری اقدامات کی ضرورت اور خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے ریفریجریٹر فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان روزانہ ناشتہ 9:45 پر کرتے ہیں، ایک گھنٹے تک قرآن پڑھتے ہیں اور محدود ورزش کرتے ہیں۔ ناشتے میں کافی، دلیہ اور کھجوریں شامل ہیں، اور ہفتے میں مختلف دنوں کے لیے گوشت، چکن یا دال و سینڈوچ دستیاب ہوتا ہے۔ وہ رات کو مکمل کھانا نہیں کھاتے، پھل اور دودھ لیتے ہیں۔
جیل میں انہیں مشقتی، ہیٹر اور روم کولر دستیاب ہیں، اور گرمیوں میں فوڈ پوائزننگ کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے۔ ملاقات وکلا اور اہل خانہ کے ساتھ محدود اور وقتاً فوقتاً ہوتی ہے۔ ان کے سیل میں روشنی، ہوا اور تقریباً 100 کتابیں دستیاب ہیں، جبکہ دائیں آنکھ کی تقریباً 15 فیصد کام کر رہی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریاستی تحویل میں موجود قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات دی جائیں، جبکہ اٹارنی جنرل نے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی یقین دہانی کرائی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ یہ اقدامات 16 فروری سے قبل مکمل کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آنکھوں کے کی رپورٹ جیل میں
پڑھیں:
زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز