امریکی فوج 11 سال بعد شام میں التنف اڈہ چھوڑ کر اردن کی طرف روانہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے شام سے مکمل انخلاء کے وسیع منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے، جس میں جنوری 2026 کے اواخر سے تیزی آ رہی ہے۔ امریکا التنف کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے اردن میں اپنے اڈے استعمال کر سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کئی سالوں سے شام میں تعینات امریکی فوجی 11 سال بعد التنف اڈہ چھوڑ کر اردن کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ تسنیم نیوز کے مطابق شام میں تعینات امریکی افواج نے بدھ کے روز التنف اڈے سے اردن کے البرج اڈے کی طرف مکمل طور پر انخلا کیا۔ الجولانی حکومت سے وابستہ ایک فوجی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ انخلاء کی کارروائی تقریباً 15 دن پہلے شروع ہوئی تھی اور اب ختم ہو گئی ہے۔
التنف اڈہ شام، اردن اور عراق کی سرحدی مثلث میں واقع ہے اور اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اڈہ 2014 میں داعش کے خلاف امریکی اتحاد کی کارروائیوں کا مرکز قائم کرنیکے لئے بنایا گیا تھا، لیکن اس کا بنیادی کام شام میں مزاحمتی قوتوں کی موجودگی کی نگرانی کرنا تھا۔ اس اڈے پر بشار الاسد کے دور میں شامی دہشت گردوں کو مسلح کرنے اور تربیت دینے کی بھی متعدد اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
اس سے پہلے شام میں امریکی فوجی موجودگی بنیادی طور پر ملک کے شمال مشرق میں چند محدود اڈوں اور التنف بیس پر مرکوز تھی۔ امریکی افواج کے فرائض میں انٹیلی جنس سپورٹ، آپریشنل کوآرڈینیشن اور فضائی مدد شامل تھی۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ انخلاء مکمل ہو گیا ہے اور الجولانی حکومت کی افواج نے فوری طور پر اڈے پر اپنی فوجی چوکیاں قائم کیں اور امریکیوں کے جانے کے بعد حفاظتی اقدامات کو تیز کر دیا۔
التنف میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد کا تخمینہ 200 کے قریب لگایا گیا تھا، جو شام میں تقریباً 1000 امریکی فوجیوں کی کل موجودگی کا حصہ ہے۔ یہ انخلاء امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) یا بین الاقوامی اتحاد کے سرکاری بیان کے بغیر عمل میں آیا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ امریکا التنف کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے اردن میں اپنے اڈے استعمال کر سکتا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے شام سے مکمل انخلاء کے وسیع منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے، جس میں جنوری 2026 کے اواخر سے تیزی آ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی فوجی سکتا ہے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔