سندھ میں فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی ہائی رسک عمارتوں کو سیل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
لاہو ر(ویب ڈیسک)چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت صوبہ بھر میں فائر سیفٹی سے متعلق اہم اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکریٹری بحالی، ڈی جی پی ڈی ایم اے، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز شریک ہوئے۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے بتایا کہ صوبے بھر میں 3,633 عمارتوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے 3,319 کو فائر سیفٹی خامیوں پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق 889 عمارتیں ہائی رسک قرار دی گئی ہیں۔
چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ میڈیم اور لو رسک عمارتوں کو اصلاحی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ہائی رسک اور غیر تعمیل عمارتوں کے خلاف سیلنگ سمیت سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا گیا ہے۔
لاہور میں بسنت کے حوالے سے میئر لندن صادق خان کا بیان بھی آ گیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔