پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، ہر ضلع تک سہولتیں پہنچائیں گے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، ہر ضلع تک سہولتیں پہنچائیں گے: مریم نواز WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2026 سب نیوز
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کا قیام صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب ہے جبکہ آٹسٹک بچوں کے علاج و تعلیم کی سہولتیں صوبے کے ہر ضلع تک لے کر جائیں گے۔
آٹزم سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک سال پہلے یہاں خالی زمین تھی اور آج اللہ کے فضل و کرم سے پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم ہوچکا ہے جسے دیکھ کر دل خوشی سے سرشار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق اس سینٹر میں ایک ہی چھت تلے آٹسٹک بچوں کے علاج، تعلیم اور بحالی کی تمام سہولتیں موجود ہیں اور شاید دنیا بھر میں بھی ایسی جامع سہولت کم ہی میسر ہو۔
مریم نواز شریف نے صوبائی معاون خصوصی ثانیہ عاشق کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس منصوبے کو ذاتی دلچسپی سے لیڈ کیا، آٹسٹک بچوں نے انہیں اپنا سمجھ کر اپنایا، پنجاب بھر میں 20 ہزار سے زائد سپیشل بچوں کا علاج اور سرجری کرکے انہیں نارمل زندگی کی طرف لایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی چھوٹی بہن اسماء کا بیٹا ابراہیم آٹسٹک ہے اور ڈھائی سال کی عمر میں اس کی تشخیص ہوئی، وسائل ہونے کے باوجود انہیں بروقت علم نہ ہوسکا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام والدین کو کن مشکلات کا سامنا ہوتا ہوگا، انہوں نے آٹسٹک بچوں کے والدین کے صبر اور حوصلے کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بعض آٹسٹک بچوں کو گھروں میں محدود رکھا جاتا ہے جبکہ غریب والدین علاج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے، ریاست کا فرض ہے کہ وہ ایسے والدین کا بوجھ بانٹے کیونکہ 90 فیصد نادار طبقہ اپنے بچوں کا علاج خود نہیں کرا سکتا۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ آٹزم سینٹر میں ساؤنڈ پروف سپیچ تھراپی، میوزک اور آرٹ تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، اوپن ایئر جم، ٹیکسچرڈ فلور، سنسری ٹریننگ اور دیگر جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، یہاں مختلف لیول کے آٹزم کے مطابق نصاب بھی تشکیل دیا گیا ہے اور خصوصی اساتذہ کی کپیسٹی بلڈنگ کی جائے گی، والدین کی ٹریننگ کا بھی اہتمام ہوگا تاکہ وہ گھر پر بھی درست انداز میں بچوں کی دیکھ بھال کرسکیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آٹسٹک بچوں کو اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنا سکھایا جائے گا اور انہیں مختلف تھراپیز کے ذریعے حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے گا، صوبے بھر میں سپیشل بچوں کے لیے 70 خصوصی بسیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی نظر میں امیر اور غریب کے حقوق برابر ہیں اور محروم افراد سے بے خبر ریاست سے زیادہ نااہل کوئی نہیں ہوسکتا، ان کا کام صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانا نہیں بلکہ لوگوں کے مسائل حل کرنا بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی اس منصوبے پر خوشی کا اظہار کیا اور آٹسٹک بچوں کے والدین کو یقین دلایا ہے کہ ریاست مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسماجی انصاف اور بین المذاہب ہم آہنگی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں: وزیراعظم سماجی انصاف اور بین المذاہب ہم آہنگی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں: وزیراعظم سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ گھر میں گر کر شدید زخمی، سی ایم ایچ میں زیر علاج ڈھاکا: ضلع گوپال گنج میں پولنگ اسٹیشن پردستی بم دھماکا صدر نے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرلز کیلئے خصوصی الاؤنس کی منظوری دیدی فتح جنگ میں فل لائٹس اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن، 22 ٹرالر اور متعدد ٹرکوں کے خلاف کارروائی بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سنگین انکشافات، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ا ٹسٹک بچوں کے نواز شریف نے مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔