انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کی سالگرہ پر سعودی فرمانروا اور ولی عہد کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود نے اسلامی انقلاب کی فتح کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر ایران کے اسلامی صدر مسعود پزیشکیان کو الگ الگ پیغامات میں مبارکباد پیش کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شاہ سلمان اور سعودی عرب کے ولی عہد نے پیغامات میں اسلامی انقلاب کی فتح کی 47 ویں سالگرہ پر ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کو مبارکباد دی ہے۔ تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود نے اسلامی انقلاب کی فتح کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر ایران کے اسلامی صدر مسعود پزیشکیان کو الگ الگ پیغامات میں مبارکباد پیش کی ہے۔ اس پیغام میں شاہ سلمان اور سعودی عرب کے ولی عہد نے ایرانی صدر کی مسلسل کامیابیوں پر دلی مبارکباد کا اظہار کیا اور ایرانی حکومت اور عوام کی ترقی میں اضافے کی خواہش کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور سعودی عرب کے ولی عہد شاہ سلمان
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔