بنگلا دیش، عام انتخابات کے لیے آج میدان سجے گا، جماعت اسلامی اور بی این پی میں سخت مقابلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ڈھاکا:
بنگلہ دیش میں عام انتخابات آج، 12.77 کروڑ ووٹر اہم قومی ریفرنڈم پر بھی حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
عوامی لیگ رجسٹریشن معطل ہونے کے باعث براہ راست انتخابی عمل سے باہر ہے تاہم اس کے حامی آزاد امیدواروں کی صورت میں میدان میں ہیں۔
چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے قوم سے خطاب میں کہا کہ امن وامان کیلیے پہلی بار سی سی ٹی وی کیمروں، باڈی کیمروں اور ڈرونز کا استعمال کیا جائے گا، اداروں کو خصوصی اختیارات دے دیے گئے، عبوری حکومت کا اقتدار منتقل نہ کرنے کا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے، انتخابات کے فوری بعد اقتدار منتخب نمائندوں کو منتقل کر دیا جائے گا۔
بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق300 پارلیمانی حلقوں میں سے299 میں پولنگ آج صبح 7:30 بجے شروع اور شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی۔
1981 امیدواروں میں سے 250 سے زائد آزاد امیدوار ہیں، پولنگ پر سکیورٹی کے سخت انتظامات اور ملک بھر میں فوج تعینات کر دی گئی، 3روز کیلئے موٹر سائیکل چلانے پر پابندی لگا دی۔
حکومت سازی کیلئے151نشستیں حاصل کرنا لازم ہے۔ عوامی سروے میں بی این پی اور جماعت اسلامی کی زیر قیادت11جماعتی اتحاد میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق 5.
ووٹروں کو سفید اور گلابی رنگ کے2 بیلٹ پیپرز ملیں گے، سفید رکن پارلیمنٹ، گلابی’’جولائی نیشنل چارٹر‘‘ کے تحت مجوزہ دستوری اصلاحات پر ریفرنڈم کیلئے ہے، مجوزہ اصلاحات میں وزیر اعظم کی مدت کی حد، عدلیہ کو بااختیار بنانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
مبصرین کے مطابق عشروں سے حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کے گرد گھومنے والا سیاسی نظام اس بار مختلف نظر آ رہا ، طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی معاشی بحالی و شفافیت کے نعرے کیساتھ مضبوط پوزیشن میں ہے۔
ادھر جماعت اسلامی کی زیر قیادت11جماعتی اتحاد جس میں نوجوانوں کی نیشنل سٹیزن پارٹی شامل ہے، ایک بڑی انتخابی قوت بن کر سامنے آیا ہے۔
اسلامی تحریک بنگلہ دیش 253 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی جس سے مذہبی ووٹ تقسیم ہونے کا امکان ہے۔ ڈھاکہ کی58 اور چٹاگانگ کی68 نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔
انتخابات کے پرامن انعقاد کیلئے10 لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات،24 ہزار پولنگ سٹیشنز حساس قرار دے کر سی سی ٹی وی نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے۔
ادھر ووٹروں کو دھمکانے پر رہنما بی این پی منظور الاحسن منشی کو الیکشن انکوائری کمیٹی نے طلب کر لیا۔
ایک وائرل ویڈیو میں منظور الاحسن منشی نے ووٹروں کو دھمکی دی کہ بی این پی کو ووٹ نہ دینے والوں کے گھر جلا دیں گے۔ بی این پی نے پالیسی کے خلاف بیانات دینے پر منظور الاحسن منشی کو پارٹی سے نکال دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بی این پی
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔