ووٹ ڈالیں اور جمہوری نتائج کا احترام کریں، بنگلہ دیشی چیف الیکشن کمشنر کی عوام سے اپیل
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پارلیمانی انتخابات کے موقع پر چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصرالدین نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ خوف کے بغیر پولنگ اسٹیشن جائیں اور اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ انہوں نے شہریوں سے پرزور اپیل کی کہ ذاتی مشکلات کو پس پشت ڈال کر انتخابات کی کامیابی میں حصہ ڈالیں اور جمہوری نتائج کا احترام کریں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش انتخابات: 299 نشتوں کے لیے 2,028 امیدوار میدان میں
پارلیمانی انتخابات سے ایک روز قبل، چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصرالدین نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے موقع پر ہر شہری کا ووٹ ڈالنا نہ صرف حق بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور ووٹروں پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں اور پرامن ماحول کو برقرار رکھیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے تاریخی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے 14 جولائی کی تحریک اور عظیم آزادی جنگ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ ناصرالدین نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حصہ ہے اور ووٹ دینے کے دوران شہریوں کو خوش مزاج اور پرجوش رہنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات، 127 ملین سے زائد ووٹرز کل ووٹ کاسٹ کریں گے
انہوں نے مزید کہا کہ عوام اپنے ذاتی مشکلات کو نظر انداز کریں اور انتخابی عمل میں مدد فراہم کریں تاکہ ایک منظم، پرامن اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔ ووٹنگ صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک 299 حلقوں میں ہوگی جبکہ شیرپور-3 میں انتخابات امیدوار کی وفات کی وجہ سے بعد میں ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن کمیشن بنگلہ دیش اے ایم ایم ناصرالدین جماعت اسلامی بنگلہ دیش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن بنگلہ دیش اے ایم ایم ناصرالدین جماعت اسلامی بنگلہ دیش چیف الیکشن کمشنر بنگلہ دیش کہا کہ
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔