بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: کیا ہوگا، کب ہوگا اور کس کا کیا داؤ پر لگا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
شیخ حسینہ واجد کی معزولی کے بعد بنگلہ دیش میں ہونے والے پہلے عام انتخابات میں بی این پی اور جماعتِ اسلامی کی قیادت میں اتحاد آمنے سامنے ہیں۔
بنگلہ دیش میں ووٹرز 12 فروری بروز جمعرات کو عام انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے۔ یہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی 2024 میں برطرفی کے بعد پہلا پارلیمانی انتخاب ہوگا۔
حسینہ کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہروں پر سخت کریک ڈاؤن کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا تھا، جن میں اندازاً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انتخابی مہم منگل کی صبح ختم ہو گئی۔
پولنگ کب ہوگی؟الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش کے مطابق پولنگ 12 فروری کو صبح 7:30 بجے (01:30 جی ایم ٹی) شروع ہو کر شام 4:30 بجے (10:30 جی ایم ٹی) تک جاری رہے گی۔
ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42,761 پولنگ مراکز پر 300 پارلیمانی نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔
ووٹنگ کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟31 اکتوبر 2025 تک 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 127,711,793 رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہیں۔ پہلی بار ملک کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے لیے پوسٹل بیلٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ اوورسیز کارکن مستفید ہوں گے۔
بنگلہ دیش میں یک ایوانی پارلیمنٹ (یعنی ایک ہی قانون ساز ایوان) موجود ہے جسے جاتیو شنگشد کہا جاتا ہے۔ اس میں مجموعی طور پر 350 نشستیں ہیں۔
300 نشستیں براہِ راست فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ (FPTP) نظام کے تحت منتخب کی جاتی ہیں، جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں، جو انتخابی نتائج کے بعد جماعتوں کو ان کی جیتی گئی نشستوں کے تناسب سے دی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں عام انتخابات جمعرات کو، ملک میں 4 روزہ تعطیلات کا اعلان
مثال کے طور پر اگر کوئی جماعت 60 نشستیں جیتے تو اسے 10 مخصوص نشستیں بھی ملیں گی۔
اس نظام میں ہر ووٹر ایک امیدوار کو ووٹ دیتا ہے اور جس امیدوار کو سب سے زیادہ ووٹ ملتے ہیں وہ کامیاب قرار پاتا ہے، چاہے اس نے 50 فیصد سے کم ووٹ ہی کیوں نہ حاصل کیے ہوں۔
حکومت بنانے کے لیے کسی جماعت کو 151 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ دوسری بڑی جماعت اپوزیشن بن جاتی ہے۔
اس انتخاب میں کیا داؤ پر لگا ہے؟یہ جنوری 2024 کے بعد پہلا انتخاب ہے، جب شیخ حسینہ پانچویں مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہوئی تھیں۔ اُس وقت مرکزی اپوزیشن جماعت بی این پی نے انتخاب کا بائیکاٹ کیا تھا اور عالمی مبصرین نے اسے غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔
جولائی 2024 میں طلبہ نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا، جس میں 1971 کی جنگِ آزادی کے مجاہدین کے خاندانوں کے لیے بڑی تعداد میں نوکریاں مختص تھیں۔
احتجاج شدت اختیار کر گئے تو حسینہ نے سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیا۔ ملک کے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل کے مطابق تقریباً 1,400 افراد ہلاک اور 20,000 سے زائد زخمی ہوئے۔
بعدازاں حسینہ کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور انہیں بھارت میں پناہ لینا پڑی، جہاں وہ از خود جلاوطنی کے شب و روز گزار رہی ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ محمد یونس اگست 2024 میں عبوری سربراہ بنے۔
نومبر میں حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی گئی۔
ان کی جماعت عوامی لیگ پر بھی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔
ریفرنڈم بھی ہوگاپارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ جولائی نیشنل چارٹر 2025 پر ریفرنڈم بھی ہوگا، جس میں آئینی ترامیم اور قانونی اصلاحات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ انتخاب ملک کی سیاسی سمت کا تعین کرے گا۔
بڑی جماعتیں اور اتحادبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)
مرکز دائیں بازو کی بی این پی 10 جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کر رہی ہے۔ اس کی قیادت طارق رحمان کر رہے ہیں، جو سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں۔ وہ تقریباً 17 سال بعد جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش عام انتخابات: نوجوان امیدواروں کی بھرمار، پرانی سیاست کا توازن بدلنے لگا
بی این پی 1978 میں میجر جنرل ضیاء الرحمان نے قائم کی تھی۔ یہ جماعت بنگلہ دیشی قوم پرستی کے نظریے پر مبنی ہے۔
جماعتِ اسلامی (JIB)
جماعت اسلامی 11 جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کر رہی ہے، جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) بھی شامل ہے، جو 2024 کے احتجاجی طلبہ نے تشکیل دی تھی۔
سپریم کورٹ نے جون 2025 میں جماعت کی رجسٹریشن بحال کی، جس کے بعد وہ دوبارہ انتخاب لڑنے کے قابل ہوئی۔
جماعت اس بار بی این پی کی حلیف نہیں بلکہ مدِ مقابل ہے۔
رائے عامہ کے جائزےامریکی ادارے انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق بی این پی کو 33 فیصد جبکہ جماعت اسلامی کو 29 فیصد حمایت حاصل ہے۔
نتائج کب آئیں گے؟ماضی میں غیر سرکاری نتائج اگلی صبح آنا شروع ہو جاتے تھے، تاہم اس بار ریفرنڈم اور زیادہ امیدواروں کی وجہ سے تاخیر کا امکان ہے۔
یہ انتخاب تاریخی کیوں ہے؟ماہرین کے مطابق 17 سال بعد ووٹرز کو ایک حقیقی اور مسابقتی انتخابی عمل میں حصہ لینے کا موقع مل رہا ہے۔
نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد پہلی بار ووٹ ڈالے گی، اور یہی نسل حسینہ مخالف تحریک میں پیش پیش تھی۔
اسلام پسند جماعتوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ، عوامی لیگ کی عدم موجودگی، اور آئینی تبدیلی کے امکانات اس انتخاب کو بنگلہ دیش کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شامل کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش عام انتخابات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش عام انتخابات بنگلہ دیش میں عام انتخابات بی این پی کی قیادت کے مطابق کے لیے کے بعد
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔