12فروری: بنگال کی تاریخ کا نیا ورق
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-03-7
بنگلا دیش کے انتخابات کو محض ایک ’’معمول کا الیکشن‘‘ سمجھنا زمینی حقائق سے لاعلمی کے مترادف ہوگا۔ 12 فروری کو ڈالے جانے والے ووٹ کسی ایک جماعت یا حکومت کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ یہ برسوں کی گھٹن، خوف، بدعنوانی، خاموش جبر اور اجتماعی بے بسی کا اجتماعی جواب ہوں گے۔ یہ وہ دن ہے جب بنگال کی سرزمین ایک بار پھر یہ طے کرے گی کہ اقتدار طاقت کے زور پر چلے گا یا عوامی اعتماد سے، موروثیت کے سہارے یا کردار اور اہلیت کی بنیاد پر، مفاد کے تابع یا اصولوں کے تابع۔ انتخابات میں اب محض ایک دن باقی ہے، مگر بنگلا دیش کا سیاسی منظرنامہ روز بروز زیادہ واضح اور دو ٹوک ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین قومی اور بین الاقوامی سرویز اس حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جماعت اسلامی بنگلا دیش اب محض ایک انتخابی جماعت نہیں رہی بلکہ ایک سیاسی متبادل کے طور پر ابھری ہے۔ Projection BD, Jagran Foundation اور NarratiV کے مشترکہ سروے کے مطابق اگرچہ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کو معمولی عددی برتری حاصل ہے، مگر جماعت اسلامی اور اس کے اتحادی مجموعی ووٹ بینک کے اعتبار سے واضح سبقت رکھتے ہیں۔ 17 فی صد غیر فیصلہ شدہ ووٹرز اس انتخاب کو مکمل طور پر کھلا اور غیر یقینی مقابلہ بنا رہے ہیں اور یہی طبقہ حتمی فیصلہ کن قوت بننے جا رہا ہے۔ اسی دوران International Republican Institute (IRI) کے سروے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں 53 فی صد ووٹرز نے جماعت اسلامی کو اپنی پسندیدہ جماعت قرار دیا۔ یہ اعداد و شمار محض شماریاتی مشق نہیں بلکہ اس گہری عوامی تبدیلی کا اظہار ہیں جو بنگلا دیشی سماج میں جنم لے چکی ہے۔ عوام اب ترقی کے نعروں، بلند و بانگ دعووں اور رنگین منصوبوں سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ کون زیادہ سڑکیں بنائے گا، بلکہ یہ ہے کہ کون لوٹے گا نہیں، کون جھوٹ نہیں بولے گا، اور کون اقتدار کو امانت سمجھے گا۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ اس کے پیچھے ایک طویل اور تلخ سیاسی تاریخ ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں طاقت کو چند ہاتھوں میں مرکوز رکھا گیا، اداروں کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا گیا، انتخابات کو رسمی کارروائی میں بدل دیا گیا، اور قومی دولت کی بے مثال لوٹ مار کی گئی۔ بنگلا دیش کے بینکوں، بیمہ اور مالیاتی اداروں سے 28 لاکھ کروڑ ٹکا کا بیرونِ ملک منتقل ہونا محض معاشی بدعنوانی نہیں بلکہ ایک اخلاقی سانحہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بنگلا دیشی ووٹر بنیادی سوال اٹھا رہا ہے: ہمیں استحکام تو ملا، مگر کیا ہمیں انصاف، عزت اور آواز بھی ملی؟ اسی سوال نے جماعت اسلامی کے ’’کلین امیج‘‘ کو غیر معمولی تقویت دی ہے۔ جماعت نہ اقتدار میں رہی کہ بدعنوانی کے داغ لگتے، نہ اس نے اپوزیشن میں رہ کر انتقام اور نفرت کی سیاست کی۔ اس نے ظلم سہا، مگر عوامی خدمت کا راستہ نہیں چھوڑا۔ قدرتی آفات ہوں، سیلاب ہوں، ریاستی ناکامیاں ہوں یا سماجی بحران جماعت اسلامی اکثر حکومت سے پہلے عوام کے درمیان موجود رہی۔ یہی خاموش، مستقل اور بے لوث خدمت آج ووٹ میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
عوامی لیگ کی انتخابی دوڑ سے غیر موجودگی نے بنگلا دیشی سیاست کی اصل حقیقت کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ Communication and Research Foundation (CRF) اور Bangladesh Election and Public Opinion Studies کے مطابق عوامی لیگ کے سابق ووٹرز بڑی تعداد میں بی این پی اور جماعت اسلامی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ بکھراؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ ووٹر اب کسی ’’تاریخی جواز‘‘ یا خوف کی بنیاد پر یرغمال بننے کو تیار نہیں۔ وہ اپنا فیصلہ خود کرنا چاہتا ہے۔
اس پس منظر میں بی این پی کی ایک بڑی سیاسی لغزش بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ نوجوان نسل کو متاثر کرنے کے لیے موروثی سیاست کا سہارا لینا طارق رحمن کی بیٹی کو آگے لانا Gen Z کے لیے ناقابل ِ قبول ثابت ہوا۔ آج کا نوجوان خاندانی نام نہیں، نظام کی تبدیلی چاہتا ہے۔ وہ سیاست میں وراثت نہیں بلکہ شفافیت، میرٹ اور جواب دہی دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو خود بی این پی کے اندر بھی ایک ’’میگا پولیٹیکل مسٹیک‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی نوجوان طبقہ چند ماہ قبل طلبہ سیاست میں اپنا فیصلہ سنا چکا ہے۔ اسلامی شبر کی کامیابیاں محض کیمپس تک محدود نہیں رہیں بلکہ قومی سیاست کے لیے واضح پیغام بن گئیں۔ ڈھاکا، چٹاگانگ، راج شاہی اور دیگر جامعات میں یہ فتح اس بات کا اعلان تھی کہ منظم، نظریاتی اور صبر آزما جدوجہد آخرکار نتیجہ دیتی ہے۔ آج وہی رجحان قومی سطح پر بھی نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی منظرنامہ بھی اس تبدیلی سے بے خبر نہیں۔ برطانیہ، فرانس، امریکا اور چین کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں کی جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقاتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ عالمی طاقتیں بھی بنگلا دیش کے بدلتے سیاسی توازن کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ تاہم اصل فیصلہ نہ سفارتی کمروں میں ہوگا، نہ بیرونی بیانات میں بلکہ عوام کی پرچی میں ہوگا۔ یقینا جماعت اسلامی کے لیے راستہ آسان نہیں۔ مقامی بیوروکریسی، پرانا اسٹیٹس کو، بھارتی لابی اور عوامی لیگ کی باقیات اسے اقتدار سے دور رکھنے کے لیے متحرک ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب عوامی رجحان کسی سمت مضبوطی سے چل پڑے تو رکاوٹیں دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
آنے والی پارلیمنٹ غالباً منقسم ہوگی بی این پی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آ سکتی ہے، جماعت اسلامی ایک مضبوط نظریاتی قوت کے طور پر ابھرے گی، جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) اور آزاد ارکان توازن کا کردار ادا کریں گے۔ ایسے منظرنامے میں جماعت اسلامی کی حیثیت محض عددی نہیں بلکہ فیصلہ کن ہوگی۔ قانون سازی ہو، احتساب ہو یا خارجہ پالیسی یہ سیاست اب تعداد سے زیادہ اثر کی سیاست بنتی جا رہی ہے۔ یہ الیکشن دراصل ایک فکری ریفرنڈم ہے۔ ایک طرف وہ سیاست ہے جو بیرونی سرپرستی، اسٹیبلشمنٹ اور طاقت کے سہارے چلتی ہے، اور دوسری طرف وہ سیاست جو تنظیم، اخلاق، عوامی رابطے اور اللہ پر توکل سے قوت حاصل کرتی ہے۔ جماعت اسلامی اسی توازن کی علامت ہے اسباب پر بھی یقین، اور ربِّ اسباب پر بھی۔
پاکستانی قاری کے لیے بھی یہ لمحہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بی این پی کی نسبتاً مثبت سوچ، جماعت اسلامی کا فکری و تہذیبی رشتہ، اور نوجوانوں کی نئی سیاسی آواز یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بنا رہے ہیں جس میں پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں بھی نئی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ فروری محض ایک تاریخ نہیں، یہ بنگلا دیش کی سیاسی اخلاقیات کا امتحان ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ووٹ صرف کاغذ پر مہر نہیں ہوگا بلکہ ضمیر کی گواہی ہوگا۔ یہ دن طے کرے گا کہ عوام خوف کے سائے میں جئیں گے یا اختیار کے احساس کے ساتھ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب خاموش اکثریت بولتی ہے تو محض حکومتیں نہیں بدلتیں، قومی سمتیں بدل جاتی ہیں۔ اسی لیے 12 فروری کو ہر ووٹ ایک سوال بھی ہے اور ایک جواب بھی ہم کیسا بنگلا دیش چاہتے ہیں؟ ایسے میں جماعت اسلامی کا کردار محض حکومت سازی تک محدود نہیں۔ اگر وہ اقتدار میں آئے یا اپوزیشن میں بیٹھے، اس کی موجودگی آنے والی پارلیمنٹ کو اخلاقی وزن دے گی۔ احتساب، شفاف قانون سازی، عدلیہ کی آزادی اور عوامی حقوق یہ سب وہ محاذ ہیں جہاں جماعت اسلامی فیصلہ کن آواز بن سکتی ہے۔ یہ سیاست تعداد کی نہیں، کردار کی سیاست ہوگی، اور یہی اس انتخاب کا اصل حاصل ہو سکتا ہے۔ 12 فروری محض یہ طے نہیں کرے گا کہ حکومت کون بنائے گا، بلکہ یہ فیصلہ کرے گا کہ آنے والی پارلیمنٹ میں کس کی بات وزن رکھے گی۔ جب دبائی گئی آوازیں ووٹ میں بدلتی ہیں تو صرف حکومتیں نہیں قوموں کی سمت بدلتی ہے۔ مسلم بنگال کوئی نیا خواب نہیں؛ یہ ایک دبائی گئی حقیقت ہے جو اب دوبارہ سانس لے رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے: جو خون نظریے کے لیے بہتا ہے، وہ کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلا دیش کے نہیں بلکہ جا رہا ہے بی این پی رہے ہیں محض ایک کے لیے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی