بائیکاٹ سے ماننے تک کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پاکستان نے آئی سی سی سے مذاکرات کے بعد بھارت سے میچ کھیلنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے وزیر اعظم سے منظوری لی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے انکار نے کرکٹ کے ایوانوں میں اتنی کھلبلی کیوں مچا دی؟ کیوں آئی سی سی کو پاکستان سے مذاکرات اور پاکستان کو منانے کی ضرورت پیش آئی؟ ایک سوال سب کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان جیتا یا پاکستان ہارا؟ کیا ہم بھارت کو کوئی سبق سکھانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟
میں سمجھتا ہوں بھارت کو کافی سبق مل گیا ہے۔ بلکہ آئی سی سی جس مالی اثرورسوخ کی وجہ سے بھارت کی گود میں بیٹھا ہواتھا، وہاں یہ بات ثابت ہو گئی کہ پیسہ پاکستان کی وجہ سے آتا ہے۔ اکیلا بھارت کرکٹ کو کوئی پیسہ نہیں دے سکتا، جب تک پاکستان ساتھ نہ ہو۔ پاک بھارت میچ ہوگا تو پیسہ آئے گا۔ اکیلا بھارت جتنے مرضی میچ کھیل لے، پیسہ نہیں آتا۔ بھارت باقی ٹیموں کے ساتھ بھی جتنا مرضی کھیل لے، پیسہ نہیں آتا۔
پاکستان کے اس بائیکاٹ کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ آئی سی سی ٹورنمنٹ کی ساٹھ فیصد سے زائد آمدنی صرف پاک بھارت کرکٹ میچ سے آتی ہے۔ اس لیے اگر آئی سی سی ٹورنامنٹ میں پاک بھارت میچ نہیں ہوگا تو دیوالیہ نکل جائے گا۔ اسی دیوالیہ کو بچانے کے لیے آئی سی سی پاکستان آیا۔ بلا شبہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ پاکستان نے آئی سی سی کو اپنی اہمیت سے آگاہ کیا ہے۔
بھارت کو احساس دلایا ہے کہ وہ اکیلا کچھ نہیں۔ وہ اکیلے کسی ٹورنامنٹ کو کامیاب نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں پاکستان کے بائیکاٹ نے دنیا کرکٹ کی سوچ بدل دی ہے۔ پاکستان کی اہمیت سب کے سامنے آگئی ہے اور بھارت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ اگر جیت ہار کا فیصلہ کرنا ہے تو بلا شبہ پاکستان کی جیت ہوئی ہے۔
دنیا کرکٹ میں پاکستان کی ساکھ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہم بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے یہی تاثر تھا کہ اگر آئی سی سی سے فوائد لینے ہیں تو بھارت سے بنا کر رکھی جائے۔ لیکن اب پاکستان ایک مضبوط ملک کے طور پر سامنے آیا ہے کہ اگر پاکستان کسی کے ساتھ ہے تو بھی آئی سی سی سے فائدے لیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان چاہے تو آئی سی سی کا بازو مڑور سکتا ہے۔ آئی سی سی صرف بھارت نہیں پاکستان کا بھی محتاج ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ آگے چل کر دنیا کرکٹ کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں۔ پاکستان کی عالمی کرکٹ میں ساکھ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
ویسے آئی سی سی کے لیے بہت آسان تھا، اگر پاکستان نے ایک میچ کا بائیکاٹ کیا ہے توا س میچ کے پوائنٹس بھارت کو مل جاتے۔ بھارت کو کھیلے بغیر جیت کے پوائنٹس مل جاتے۔ جیسے آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو آؤٹ کیا تھا ویسے پاکستان کو بھی آؤٹ کیا جا سکتاتھا۔ بنگلہ دیش کو نشان عبرت میں بنایا جا سکتاتھا تا کہ کل کو کوئی ملک بھارت کے سامنے کھڑے ہونے کی کوشش نہ کرے۔ جیسے پہلے بنگلہ یش کو باہر نکالا گیاا۔
اب مزید پابندیاں بھی لگائی جا سکتی تھیں۔ بھارت بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کا بائیکاٹ کر کے اسے بھی نشان عبرت بنانا چاہتا تھا۔ لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ اس کی قیمت بھارت اور آئی سی سی دونوں کو ادا کرنی تھی۔ بات سمجھنے کی ہے۔ بھارت اپنا نقصان کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اگر آئی سی سی میںسے پیسے کی بندر بانٹ ختم ہو جائے تو بھارت کی کرکٹ پر حاکمیت بھی ختم ہو جائے۔ حاکمیت پیسے کی وجہ سے ہے۔ پاکستان کے بائیکاٹ نے پیسے کے کھیل کی تباہی کر دی تھی۔ اگر پیسے کو بچانا تھا تو پاکستان کو واپس لانا تھا۔
دوست یہ سوال بھی کر رہے ہیںکہ پاکستان کو نہیں ماننا چاہیے تھا۔ جو تباہی ہوتی ہونے دیتے۔ لیکن بات سمجھیں بنگلہ دیش بھی تباہی نہیں چاہتا تھا۔ وہ اپنے مالی مفا دات کو تحفظ چاہتا تھا۔ وہ اپنے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان کا ساتھ چاہتا تھا۔ وہ تباہی کے ایجنڈے پر ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ ہم اگر تباہی کر دیتے تو بنگلہ دیش کے دوست بھی ناراض ہو جاتے کہ ہمیں مراعات مل رہی تھیں ۔ پاکستان ہماری مراعات کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔ اس لیے ابھی بنگلہ دیش کو اس کا حق دلوانے سے پاکستان ایک ہیرو کی طرح دنیا کرکٹ میں سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے ایک دوست ملک کے لیے جرات مندانہ اسٹینڈ لیا ہے۔
لیکن تباہی کے ایجنڈے پر بنگلہ دیش ہمارے ساتھ ہوتا ۔ مشکل تھا۔ پھر ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ بنگلہ دیش ہماری بجائے اکیلا ٓئی سی سی کے ساتھ چلا جاتا اور ہم تنہا رہ جاتے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں لڑائی اتنی لڑی جا سکتی تھی جس میں سب کا فائد ہ ہو۔ نقصا ن کی لڑائی میں کوئی آپ کے ساتھ نہیں ہوتا۔
اب ہم بنگلہ دیش کے سچے دوست اور محسن ہیں۔ پھر بنگلہ دیش کے لو گ یہ کہتے کہ پاکستان نے بھارت سے اپنی دشمنی نکالنے کے لیے ہمارا استعمال کیا۔ آج بنگلہ دیش یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان نے ہمارا ساتھ دیا۔پھر کہتے کہ نہیں پاکستان کا اپنا ایجنڈا تھا۔ وہ بھارت سے اپنی دشمنی نکال رہا تھا۔ ہمارا تو استعمال کیا گیا ہے۔ ہم معاملات طے کر لیتے۔ پاکستان نے مکمل تباہی کر دی۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں جتنی لڑائی لڑی گئی ہے۔ اتنی لڑی جا سکتی تھی۔ اس سے آگے لڑنے کا پھر موقع آجائے گا۔
مجھے امید ہے کہ بھارت کو عقل نہیں آئی ہوگی، وہ اس وقت مجبور ہوگیا ہے۔ شکست پاکستان کو نہیں بھارت کی کرکٹ حاکمیت کو ہو ئی ہے۔ چیلنج بھارت کی حاکمیت ہوئی ہے۔ آگے دنیا کرکٹ کے ممالک پاکستان کے موقف کی اہمیت کو سمجھیں گے۔ انھیں انداذہ ہوگا کہ پاکستان کی ناراضی بھی کھیل کو دیوالیہ کر سکتی ہے۔ اس لیے وہ بھارت کو سمجھائیں گے۔ بھارت کو اندھے ووٹ نہیں ملیں گے۔ میں سمجھتا ہوں آئی سی سی میں ایک بیلنس آگیا ہے۔ جس کے نتائج آگے دیکھنے کو ملیں گے۔ ایک نئی شروعات ہوئی ہے۔ جس کے نتائج آگے کئی سال نظر آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں سمجھتا ہوں بنگلہ دیش کے پاکستان نے ا پاکستان کا پاکستان کو پاکستان کے پاکستان کی کہ پاکستان چاہتا تھا دنیا کرکٹ بھارت کی بھارت سے بھارت کو کے ساتھ کے لیے اس لیے گیا ہے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم