ٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادی پاکستان میں کشیدگی میں اضافہ کا سبب: اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
ٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادی پاکستان میں کشیدگی میں اضافہ کا سبب: اقوام متحدہ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )ٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادی کے باعث پاکستان میں کشیدگی میں اضافہ ہوا، اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغان طالبان کا بیانیہ خاک میں ملا دیا۔ سکیورٹی کونسل رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی نگرانی ٹیم کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی خطے کیلئے تشویش ہے اور افغانستان سے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان حکام کا یہ دعوی کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، کسی رکن ملک نے تسلیم نہیں کیا، ٹی ٹی پی کو افغانستان میں زیادہ آزادی اور سہولت ملی جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف حملے بڑھے اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
سیکورٹی کونسل رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ القاعدہ کو افغانستان میں سرپرستی حاصل رہی اور اس نے بالخصوص ٹی ٹی پی کو تربیت اور مشاورت فراہم کی،القاعدہ برصغیر کی قیادت کے کابل میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں اور بیرونی کارروائیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب اِس بات کی بھی تصدیق ہوئی کہ اسلام آباد کی عدالت پر حملہ ایک خطرناک رخ کی نشاندہی کرتا ہے اور اس واقعے میں بارہ شہادتیں ہوئیں، پاکستانی کارروائی میں ٹی ٹی پی کے نائب امیر دہشت گرد خارجی مزاحم کی ہلاکت دہشت گردوں
رپورٹ میں بتایا گیا کہ داعش خراسان شمالی افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب فعال ہے اور قابلِ ذکر صلاحیت رکھتی ہے، افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی / نیٹو ہتھیاروں کے ذخائر نے پاکستان میں ٹی ٹی پی حملوں کی مہلکیت بڑھا دی، ٹی ٹی پی نے جدید ہتھیار، رات میں دیکھنے والے آلات اور ڈرون نظام استعمال کیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان نے با آسانی امریکا کو شکست دیکر پچھلی ہار کا بدلہ لے لیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان نے با آسانی امریکا کو شکست دیکر پچھلی ہار کا بدلہ لے لیا پاک فضائیہ کی جنوبی زون میں جنگی تیاریوں کا شان دار مظاہرہ عمران خان اور بشری بی بی کے درمیان ملاقات،ملاقات سلمان صفدر سے پہلے کرائی گئی، جیل ذرائع وفاق اور خیبرپختونخوا ایک پیج پر، ملاکنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو دینے کا فیصلہ پاکستان میں جاپان کے سفیر کی میزبانی میں جاپان پاکستان بزنس سیمینار 2026 منعقد سینٹ قائمہ کمیٹی سے کتابوں پر پلاسٹک کور کی ممانعت کا بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹی ٹی پی کو افغانستان میں کشیدگی میں اضافہ پاکستان میں
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔