الیکشن کمیشن نے معلومات تک رسائی کے حق کی ریگولیشنز جاری کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
الیکشن کمیشن نے معلومات تک رسائی کے حق کی ریگولیشنز جاری کر دیں WhatsAppFacebookTwitter 0 11 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )الیکشن کمیشن آف پاکستان نے معلومات تک رسائی کے حق کی ریگولیشنز جاری کر دیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق ریگولیشنز کا اطلاق الیکشن کمیشن کے تمام مرکزی و صوبائی دفاتر پر ہوگا، سیکرٹریٹ میں چیف انفارمیشن افسر اور صوبوں میں پبلک انفارمیشن افسر تعینات ہوگا۔
ہر شہری معلومات کے حصول کیلئے درخواست جمع کرا سکے گا، درخواست پر فیصلہ 14 ورکنگ دنوں میں کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے مطابق معلومات کی فراہمی پر فی صفحہ 10 روپے فیس مقرر کی گئی ہے، معلومات نہ ملنے پر 14 روز میں چیف الیکشن کمشنر کو اپیل کا حق ہوگا۔الیکشن کمیشن کا ریکارڈ کلاسیفائیڈ اور نان کلاسیفائیڈ کیٹیگری میں تقسیم کیا گیا، کلاسیفائیڈ ریکارڈ اجازت کے بغیر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔کلاسیفائیڈ ریکارڈ تک غیر مجاز رسائی یا نقل پر قانونی و محکمانہ کارروائی ہوگی، حلقہ بندی کمیٹیوں کی تقرری سے متعلق ریکارڈ کلاسیفائیڈ ہوگا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی فہرستوں کے سپروائزرز، تصدیق افسران اور ڈسپلے سینٹر انچارج، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے متعلق دستاویزات کلاسیفائیڈ ہوں گی۔ٹرینرز اور ٹریننگ حاصل کرنے والوں کا ڈیٹا بھی کلاسیفائیڈ قرار دیدیا گیا، ڈی ایم اوز اور مانیٹرنگ ٹیموں کی رپورٹس کلاسیفائیڈ ہوں گی۔الیکشن کمیشن کے مطابق صنفی و سماجی شمولیت کے منصوبوں کی معلومات کلاسیفائیڈ، ملازمین کی ہائرنگ، سرکاری و رہائشی الاٹمنٹ سے متعلق امور کلاسیفائیڈ قرار دے دیئے گئے۔گاڑیوں کی خرید و رجسٹریشن کا ریکارڈ بھی کلاسیفائیڈ ہوگا، فائل نوٹس، خط و کتابت اور منظوری کے مسودے کلاسیفائیڈ ہوں گے، اتھارٹی کسی بھی دستاویز کو کلاسیفائیڈ قرار دے سکتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی اقتدار مستقل نہیں ہوتا، آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ہر ظلم کا حساب لیں گے، سہیل آفریدی آئین کے دائرے میں رہنے والی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں،محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی اجلاس، اسپیکر نے کورم کی نشاندہی نظرانداز کردی،متعدد بل منظور پاک بھارت جنگ میں دس طیارے گرائے گئے تھے،امریکی صدر ٹرمپ کا نیا دعوی وزیر دفاع کا رمضان سے پہلے افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کا عندیہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔