الیکشن کمیشن، معلومات تک رسائی کے حق کی ریگولیشنز جاری کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے معلومات تک رسائی کے حق کی ریگولیشنز جاری کر دیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ریگولیشنز کا اطلاق الیکشن کمیشن کے تمام مرکزی و صوبائی دفاتر پر ہوگا، سیکرٹریٹ میں چیف انفارمیشن افسر اور صوبوں میں پبلک انفارمیشن افسر تعینات ہوگا۔
ہر شہری معلومات کے حصول کیلئے درخواست جمع کرا سکے گا، درخواست پر فیصلہ 14 ورکنگ دنوں میں کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق معلومات کی فراہمی پر فی صفحہ 10 روپے فیس مقرر کی گئی ہے، معلومات نہ ملنے پر 14 روز میں چیف الیکشن کمشنر کو اپیل کا حق ہوگا۔
الیکشن کمیشن کا ریکارڈ کلاسیفائیڈ اور نان کلاسیفائیڈ کیٹیگری میں تقسیم کیا گیا، کلاسیفائیڈ ریکارڈ اجازت کے بغیر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔
کلاسیفائیڈ ریکارڈ تک غیر مجاز رسائی یا نقل پر قانونی و محکمانہ کارروائی ہوگی، حلقہ بندی کمیٹیوں کی تقرری سے متعلق ریکارڈ کلاسیفائیڈ ہوگا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی فہرستوں کے سپروائزرز، تصدیق افسران اور ڈسپلے سینٹر انچارج، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے متعلق دستاویزات کلاسیفائیڈ ہوں گی۔
ٹرینرز اور ٹریننگ حاصل کرنے والوں کا ڈیٹا بھی کلاسیفائیڈ قرار دیدیا گیا، ڈی ایم اوز اور مانیٹرنگ ٹیموں کی رپورٹس کلاسیفائیڈ ہوں گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق صنفی و سماجی شمولیت کے منصوبوں کی معلومات کلاسیفائیڈ، ملازمین کی ہائرنگ، سرکاری و رہائشی الاٹمنٹ سے متعلق امور کلاسیفائیڈ قرار دے دیئے گئے۔
گاڑیوں کی خرید و رجسٹریشن کا ریکارڈ بھی کلاسیفائیڈ ہوگا، فائل نوٹس، خط و کتابت اور منظوری کے مسودے کلاسیفائیڈ ہوں گے، اتھارٹی کسی بھی دستاویز کو کلاسیفائیڈ قرار دے سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔